پنجابی نغمہ”جدائیاں “ریلیز ہونےکیساتھ مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گیا

عالمی شہرت یافتہ شاعر انجم رضاکے لکھےنغمے کوپاکستانی گلوکارہ النیکا گل نے گایاہے۔۔۔۔۔۔

“جدائیاں “ پنجابی گیت اردو ڈرامے کے ساتھ ریلیز کرتے ہو ئے ہمیں بہت خوشی ہورہی ہے – یہ گیت انجم رضا ریکاڈز کو ایک لندن بیس میوزک ریکارڈ لیبل کمپنی ہے اس کے بینر سے ریلیز ہوا ہے

جدائیاں گیت کے تخلیق کار لندن بیس انجم رضا ہیں جو بحیثیت پروفیشن ایک چارٹرڈ اکاونٹنٹ ہیں دیار غیر میں رہتے ہوئے عمر بیت گئی ہے لیکن اپنے وطن کی مٹی کو سوندی خوشبو سے رچے ہوئے ہیں

جدائیاں گیت کا پس منظر ایک دکھ اور درد بری پیار کی داستان ہے جو معاشرے کی ناہمواری اور جھوٹی انا پہ بچوں کے جذبات کی قربانی ہے جس پہ ہم سب ہمیشہ قربان ہوتے رہے ہیں خاص طور پہ بیٹیوں نے ہمیشہ اپنے والدین کی مانی ہے جو کہ ہمارے مشرقی معاشرے کی ایک اعلی مثال ہے کس طرح ہم لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اپنے خاندان کیلے قربان کرتے ہیں اور یہ ہی ہمارے خاندانی نظام کو جوڑے بھی رکھتی ہے

گیت کار ایک بت بناتا ہے اور اگلا مرحلہ اس کے بناؤ سنگار کا ہوتا ہے جو کہ ایک سنگیت کار کرتا ہے جسے ہم کمپوزر اور میوزک ڈائریکٹر بھی کہتے ہیں – جدائیاں کو کمپوز ایک نوجوان اور بلا صلاحیت کمپوزر محسن علی جوجہ نے کیا اور ان کی ٹیم نے بہت ہی اچھے طریقے سے اسے اپنے سازوں سے سنوارا ہے جس میں پاکستان کے مایہ ناز طلبہ نواز سارنگی نواز بانسری نواز اور دیگر نے حصہ لیا

اگلا مرحلہ اس بت میں روح پھونکنے کا آتا ہے جو ایک اچھی سر اور آواز کی ہوتی ہے محسن علی جوجہ نت تجویز کیا کہ ایک نوجوان گلوکار ہیں ان کا نام انیلکہ گل ہے وہ کراچی میں رہتی ہیں ان کی آواز اس گانے کیلے بہت موضوع رہے گی چنانچہ انیلکہ گل کو کراچی سے لاہور ریکارڈنگ کیلے بلایا گیا اور وہ ہماری ٹیم کا حصہ بنی ہمیں اس بات کا فخر ہے کہ انجم رضا ریکارڈز پاکستان کے نو جوان ٹیلنٹ کو پلیٹ فارم دے رہا ہے انیلکہ گل نے بہت ہی اچھے طریقے سے اس گیت کو گایا اس گیت کا آڈیو پروجیکٹ محسن علی جوجہ نے بہت اچھی طرح سرانجام دیا

گیت مکمل ہونے کے بعد اب اس کی وڈیو کی باری آتی ہے کہ اسے کیسے پیش کیا جائے تو آصف مسعود جو ایک بلا صلاحیت ویڈیو ڈائریکٹر ہیں اور پہلے دن سی ہی ہماری ٹیم کا ایک حصہ ہیں کہنے لگے اس بار وڈیو سٹوری میں کچھ ڈرامہ ہونا چاہیے ڈایلاگ شامل ہونے ضروری ہیں یہ ایک نیا کام تھا جو پہلے کی وڈیوز میں نہیں تھا چنانچہ بہت سی فون کالز اور میسیجز جو آصف مسعود اور انجم رضا میں ہوتے رہے یہ طحہ پایا کہ میوزک وڈیو کے شروع میں تین ڈرامہ سینز تخلیق کیئے جائیں چنانچہ انجم رضا نے آصف مسعود کی مشاورت سے تین سینز لکھے جسے بہت ہی اچھے طریقے سے پاکستان کے مایہ ناز سینئر ڈرامہ آرٹسٹ جناب خالد بٹ صاحب جو کہ پرائڈ آف پرفارمنس آرٹسٹ بھی ہیں ادا کئے انہوں نے لڑکی کے باپ کا کردار ادا کیا اور ماں کا کردار روشنی نے نبھایا مین کریکٹر عقیدہ رائی اور اوزیر نے ادا کیا میک آپ وحید نے کیا

آصف مسعود نے تمام وڈیو پروجیکٹ بہت ہی اچھے طریقے سے سرانجام دیا جس میں کرداروں اور لوکیشن کا چناو بھی شامل ہے

اس ویڈیو کی شوٹنگ لندن یوکے میں بھی ہوئی جسے کشل شریسٹا نے فلمبند کیا اور ساری ایڈینگ آصف مسعود نے کی

اس گیت کی ساری پروموشن بہت ہی تجربہ کار سوشل میڈیا ایکسپرٹ سہیل کلیوگ راکرکس کر ہے ہیں اور سارا ماریکیٹنگ اور پروموشن ان کی ہی زیر نگرانی ہو رہا ہے

شیئرکریں