ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام ماہانہ مشاعرہ اور ادبی نشست منعقد کی گئی۔

ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام بزم جواز جعفری کی معاونت سے الحمراء ادبی بیٹھک شاھراہ قائد اعظم لاہور میں ایک ماہانہ مشاعرہ اور ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا

جسکی صدارت نامور شاعر، ادیب، کالم نگار ڈاکٹر اختر شمار نے کی۔ مہمان خصوصی لیونگ لیجنڈ اداکار مسعود اختر تھے۔ ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل،چئیرمین ایوارڈز کمیٹی سید سہیل بخاری سجادہ نشین حضرت سید پیر مکی ؒ لاہور نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم 38 سال سے فن آرٹ و ثقافت کے علاوہ ادب، صحافت، کھیل، تعلیم کے شعبہ میں سیمینار، مشاعرہ، مذاکرہ، ایوارڈز تقریبات کا انعقاد کرتے رہتے ہیں اور یہ ادبی مشاعرہ اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے منعقد کیا ہے۔ اور ہم سب تقریبات عرصہ 38 سال سے اپنی مدد آپ کے تحت کرتے آرہے ہیں اور کسی بھی حکومت سے کسی بھی قسم کی مالی گرانٹ نہیں لی۔
اس سال ہم نے وزارت اطلاعات و ثقافت حکومت پنجاب کو بذریعہ وزیر اعلیٰ اور وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب گرانٹ کے لئے درخواست دی اور اس میں عرض کیا کہ چونکہ ہم نے ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن نہیں کروائی ہمیں ہماری کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے گرانٹ دی جائے۔ حکومت کاغذی تنظیموں کو لاکھوں روپے گرانٹ دیتی ہے جو اپنی کارکردگی کمپیوٹر کے ذریعے بنا کر ادارے کو پیش کر کے گرانٹ وصول کر لیتی ہیں مگر ہمیں اپنی کارکردگی کی بجائے رجسٹریشن کی شرط رکھی گئی۔ جوکہ سراسر زیادتی ہے۔ سید سہیل بخاری نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تنظیموں کو کارکردگی کی بنیاد پر گرانٹ دی جائے اور رجسٹریشن کی شرط ختم کی جائے۔
مشاعرہ کی نظامت کے فرائض معروف شاعر و ادیب اعظم منیر نے ادا کئے۔ تقریب کا با قاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے علامہ فاروق اکرم بھٹی نے کیا۔ نعت رسول مقبول ﷺ قاری عبدالرحمان نظامی اورواثقہ خان نے پیش کی۔
ممتاز شعراء نعمان محمود سیکریٹری پاک ٹی ہاؤس، محمد طاہر نعیم، حلقہ ارباب ذوق، حماد بخاری، مرلی چوہان، میاں منیر،ساجد، آسناتھ کنول، دلشاد نسیم، انمول گوہر، نائلہ انجم، فاخرہ انجم، شگفتہ غزل ہاشمی، ممتاز راشد لاہوری، نیلما ناہید درانی، باقی احمد پوری اور دیگر کئی شعراء اکرام میں اپنا تازہ کلام پیش کرکے حاضرین سے داد وصول کی۔
بیگم صفیہ اسحاق نے اپنے خطاب میں کہا کہ سید سہیل بخاری 38 سال سے فن و ثقافت کے فروغ میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں میں ان کو انکی اعلیٰ خدمات پر خراج تحسین پیش کرتی ہوں اور اب گذشتہ سال سے انہوں نے ادبی محفلیں بھی منعقد کرنا شروع کی ہیں وہ بھی بے مثال اور قابل تحسین ہیں۔ میں اس موقع پر انکو صحت یابی پر مبارکباد پیش کرتی ہوں اور اللہ کے حضور دعا کرتی ہوں کہ انکی عمر دراز فرمائیں تاکہ وہ مستقبل میں بھی محفلیں ترتیب دیتے رہیں۔
ڈاکٹر اختر شمار نے اپنے صدارتی خطبے میں حاضرین محفل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید سہیل بخاری کا ہم سب کو شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ کسی نہ کسی بہانے سے ہمیں اکٹھا کرتے ہیں اور ہمیں اپنے دوست احباب سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔ وہ ایک عظیم انسان ہیں انکی تقریبات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے وطن پاکستان سے کتنے مخلص ہیں۔ ان کے دل میں صرف اور صرف پاکستان کے آرٹ ثقافت و ادب کو نمایاں کرنے کی لگن ہے اور وہ امن کے علمبردار ہیں۔ اللہ ان کو لمبی عمر عطا فرمائے۔کیونکہ مشاعرہ کروانا اور اتنے شاعر اور سننے والوں کا اکٹھا کرنا بہت مشکل کام ہے۔ یہ سید سہیل بخاری کا حوصلہ ہے کہ وہ ہم سب کو اکٹھا کر لیتے ہیں اور ہم انکی محبت میں کھینچے چلے آتے ہیں اس طرح کی ادبی محفلیں منعقد کرنے سے پاکستان کا نظریہ اجاگر ہوتا ہے اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہمارے عظیم ملک کا چہرہ صاف اور شفاف نظر آتا ہے۔
ڈاکٹر اختر شمار نے صدارتی خطبہ کے ساتھ ساتھ اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین سے بے پناہ داد وصول کی۔ مشاعرہ کے آخر میں شرکاء اور شعراء کرام کی چائے اور دیگر لوازمات سے تواضح کی گئی۔

شیئرکریں