پلاک کے زیر اہتمام فرخ سہیل گوئندی کے ساتھ شام کا انعقاد

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک) کے زیر اہتمام معروف دانشور، ادیب، کالم نگار اور مترجم فرخ سہیل گوئندی کے ساتھ ایک شام منائی گئی۔ جس میں معروف صحافیوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر صغرا صدف نے اُن کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ فرخ سہیل گوئندی پاکستان کے متحرک دانشور ہیں۔ جو سماجی ایشوز کے حوالے سے ہر وقت متحرک رہتے ہیں۔ انھوں نے اخبارات میں کالم نگاری کی۔ حسین نقی نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا جو کام فرخ سہیل کر رہے ہیں وہ جان جوکھوں کا کام ہے لیکن وہ باخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ پبلی کیشنز ایک با مقصد کاروبار ہے ساتھ ہی انہوں نے ان کے کچھ اہم انٹرویو کے بارے میں بتایا جس میں عمران خان اور جسوندر سنگھ کا نام شامل ہے اور بھٹو کی زندگی پر لکھی جانے والی کتاب کو بھی سراہا۔ اس کے بعد سینٹرل وائس پریزیڈنٹ پیپلز پارٹی پنجاب آصف خان نے فرخ سہیل کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ہمارا سیاسی نظریہ ایک ہونے کی وجہ سے مل کر کافی کام کرنے کا موقع ملا۔ گفتگو کرنے والے دیگر شرکاء میں مریم فرحان، مہر صفدر، میاں منیر احمد، رؤف ملک، نجم لطیف، یعقوب گوئندی اور رضوان عظیم شامل تھے۔ اس کے بعد فرخ سہیل اور ڈاکٹر صغرا صدف کا مکالمہ ہوا جس میں فرخ سہیل نے سوالوں کے جواب دیے اور اپنی زندگی اور کام کے حوالے سے بات کی جس میں انہوں نے بتایا کہ میں نے 19 سال کی عمر سے لکھنا شروع کیا جس کا آغاز ایک رسالے سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اُن کا تعلق ایک پڑھنے والے گھرانے سے تھا جس کی وجہ سے انہوں نے لکھنے کا شوق پالا اصل میں وہ Activist ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھرپور کام کرتے ہیں۔ بھٹو سے بوہت زیادہ متاثر ہیں۔ جنگ میں بھی لکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے زندگی میں بہت کچھ ان سے سیکھا ہے۔ جس کی وجہ سے دلیل اور علم میری طاقت بنی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے سیاست اس لیے چھوڑی کہ مجھے لگتا تھا میں کسی بھی پارٹی سے باہر رہ کر زیادہ کام کرسکتا ہوں۔ میں طبقاتی فرق کو مٹانا چاہتا ہوں۔ ترقی پسند فکر رکھنے والا انسان ہوں۔

شیئرکریں