ملکہء ترنم نو ر جہاں روحانی استاد ہیں، وہ نئے فنکاروں کے لیئے اکیڈمی کا درجہ رکھتی،ہیں، ملکہء آرزو

میرا گانا’’دل کملا اے مندا اے نا میری‘‘ہمسائیہ ملک نے چرایا، تو نامور پاکستانی گلوگارہ نے’’میڈے حسن دا جگ دیوانہ‘‘پر ہاتھ صاف کر لیا
کسی کے خلاف کاروائی نہیں کروں گی، فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے، اداکاری اور گلوکاری دونوں شعبوں میں اپنے فن کے ذریعے ملک کا نام، روشن کروں گی،

انٹرویو انجم شہزاد

گلوکاری میں ملکۂ ترنم نورجہاں کو اپنی روحانی استاد مانتی ہوں ان سے بہت کچھ سیکھا، ان کو سن سن کر گانا آیا ، جس کا کوئی استاد نا ہو میڈم نورجہاں اس کی بھی استاد ہیں، کیونکہ وہ ہمارے لیئے اکیڈمی کا درجہ رکلھتی ہیں، ان خیالات کا اظہار، گلوکارہ، اداکارہ ملکہ آرزو نے ایک ملاقات میں کیا، پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ نامور لوگوں سے گانے کی تربیت حاصل کی، ورنہ یہاں لوگ خود رو پودے کی طرح آتے ہیں، اور گا کر چلے جاتے ہیں، کئی تو ہٹ بھی ہو جاتے ہیں مگر میرے خیال میں جو مزہ لایؤ گانے میں ہے وہ سی ڈی یا یو ایس بی لگان کر لپ سنک کرنے میں نہیں، ملکہ آرزو نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مجھے بچپن سے ہی نمایاں نظر آنے کا شوق تھا، اس لیئے کوئی نا کوئی حرکت ایسی کرتی رہتی جس کی وجہ سے گھر والوں اور رشتہ داروں کی نظروں میں رہتی، گلوکاری اور اداکارتی کاس شوق بھی تھا مگر میرے گھر والے ان کاموں کے سخت مخالف تھے یوں اپنا یہ شوق دل میں دبا کے رکھا اور پڑھائی کے بعد بیوٹیشن کا کورس کیا اور بطور بیوٹیشن اپنا آپ منوایا بہت سے ایوارڈز بھی حاصل کیئے بہت سی میری سٹوڈنس ہیں اس فیلڈ میں مگر ایک کسک اندر ہی اندر تنگ کر رہی تھی، یوں میں نے گلوکاری کا آغاز بھی کر دیا اور پہلے پہل تو دوستوں کے درمیان ہی گانے گاتی تھی، پھر سوچا کہ ہر کام کی الف بے ہوتی ہے اور اس کو سیکھنا چاہیئے تا کہ لونگ ٹرم کام ہو پہلے ملکۂ ترنم کو تو گاتی تھی مگر چاہتی تھی کہ اپنے گانے بھی ہوں میوزک سیکھنے کے حوالے سے ملکہ آرزو نے بتایا کہ نامور لوگوں سے باقاعدہ سیکھا اور یہ سیکھنے کا عمل ابھی تک مسلسل جاری ہے، انسان رہتی دنیا تک سیکھتا رہتا ہے،میرے اساتذہ میں ظفر حسین، ذوالفقار عطرے،اور استاد طافو خان شامل ہیں ملکۂ آرزو نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ گلوکاری کا باقاعدہ آغاز پی ٹی وی سے کیا اور سب سے پہلے جو گانا گایا وہ میراپنا تھا جو ایس ایم صادق نے لکھا اور کمپوز کیاجس کے بول تھے، ’’تساں ہس کے سانوں تکنا نئیں‘‘یہ گانا بہت پسن کیا گیا ، ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ میرا ایک البم ’’دل کملا‘‘مارکیٹ میں آچکا ہے، جسے ہمارے ملک کی نامور کمپنی ٹی پی گولڈ نے ریلیز کیا، اس البم میں میڈم نورجہاں کے کچھ گانے ریمکس تھے، باقی میرے اپنے گانے تھے، ملکہء آرزو نے کہا کہ میرے ریمکس بھی پسند کیئے گئے اور نیو سونگز بھی، ملکۂ آرزو نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پہلے البم کا میوزک مختلف لوگوں نے ترتیب دیا، جن میں کامران اختر، ایس ایم صادق،جبکہ ٹائٹل سونگ’’دل کملا‘‘کا میوزک سونو، زین اور مورتی نے ترتیب دیا تھا، ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں پاکلستان کے علاوہ قطر، بحرین، پرفارم کر چکی ہوں اور اس ما ہ کے آخر میں پھر جا رہی ہوں، فلمی میوزک کے حوالے سے بتایا کہ ایک فلم ’’بیسٹ آف لک‘‘ میں میرا گانا بہت مشہور ہوا تھا جبکہ اور بھی فلموں کی آفرز ہیں، اب بھی اچھا فلمی میوزک بنتا ہے اگر محنت کی جائے، ملکۂ آرزو نے کہا کہ میں ہر ٹائپ کے گانے گا رہی خود پر کسی مخصوص ٹائپ کا لیبل نہیں لگوانا چاہتی، نعت بھی ریکارڈ کروائی جبکہ صوفی کلام بھی جلد منظر عام پر آرہا ہے، صوفی گائیکی میں میں عابدہ پروین کی بہت بڑی فین ہوں، صوفی کلام کے لیئے استاد مجاہد حسین اور رفیق احمد کی خدمات حاصل کی جلد اس کا ویڈیو منظع عام پر آئے گا، ویڈیو کسی سنگر کے لیئے کتنا ضروری ہے، اس سوال کے جواب میں ملکہء آرزو نے کہا کہ بہت ضروری خاص کر میرے جیسے گلوکاروں کے لیئے کیونکہ میں ابھی ایک آڈیو کر کے ویڈیو کے انتطار میں تھی کہ میرا گانا’’میڈے حسن دا جگ دیوانہ‘‘ریکارڈ کیا اور سوچا کہ ویڈیو بنا لوں گی مگر ہمارے ملک کی ایک نامور گلوکارہ نے نا صرف ریکارڈ کیا بلکہ اس کا ویڈیو بھی بنا کر ریلیز کر دیا جس پر میرا دل ٹوٹ گیا، اس سے پہلے بھی میرے ساتھ ہاتھ ہو چکا ہے کہ میرا گا نا’’دل کملا اے مندا نا میری‘‘ جو کہ میرے البم کا ٹائٹل سونگ ہے وہ ہمسائیہ ملک میں کاپی ہو گیا، بلکہ میں تو یہ کہوں گی کہ مل ملا کے کسی نے کیا، کیونکہ یہ گانا یو ٹیوب پر بھی اپ لوڈ تھا، میرا ہی، جبکہ اب اس کو ایک سازش کے تحت ڈیلیٹ کروا دیا گیا، پاکستان میں کاپی رائٹ ایکٹ اتنا ایکٹیو نہیں مگر اب کیا ہو سکتا ہے جو ہونا تھا ہو چکا، میں نا کاروائی کروں گی نا کسی کا نام لے کے مشہور ہونا چاہتی، مگر میرے پاس سارے ثبوت اور گواہ موجود ہیں، میں اتنا ہی کہوں گی کہ اگر نامور لوگ نئے لوگوں کا کام اس طرح چرا لیں گے تو ہمارا کام کا فائدہ، کیونکہ کوئی ایک گانا کسی فنکار کی لائف بدل سکتا، کیا پتہ یہ گانا میری لائف بنا دیتا، ملکہ آرزو نے کہا کہ اداکاری کا شوق بھی اب ساتھ ساتھ ہی پورا ہو رہا آغاز پی ٹی وی پر کیا پھر کراچی کے سپر ہٹ ڈرامہ ’’ریڈی سٹیڈی گو‘‘ میں کام کیا جبکہ آجکل پی ٹی وی کی سپر ہٹ سٹکام ’’منجی کتھے ڈاہواں‘‘ میں میڈم سنگیتا کا رول کر رہی ہوں،کراچی میں کام کی آفرز ہیں مگر میں اپنا شہر نہیں چھوڑ سکتی، جبکہ فلموں میں کام کی آفرز ہوئیں تھیں ، سید نور نے بھی ایک رول کی آفر کی تھی مگر نہیں کیا، ٹی وی اور گلوکاری میں ہی مصروف ہوں فلموں کے لیئے ٹائم نکالنا مشکل ہے، گانت ضرور گاؤں گی، اور اگر کبھی کوئی اچھا رول ملا تو کام بھی کر لوں، اداکاری میں ہت ٹائپ کے رول کرنا چاہتی، دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کر سکتی، دونوں فیلڈ میں ساتھ ساتھ ہی کام جاری رکھوں گی،ایک سوال کے جواب میں ملکہ آرزو نے کہا کہ پیسہ ضرورت تو ہے مگر میں کام پیسہ کمانے کے لیئے نہیں بلکہ عزت کمانے کے لیئے کر رہی اور اپنے کام سے ہی نام بناؤں گی، کیونکہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں

شیئرکریں
  • 128
    Shares