پلاک کے زیر اہتمام میلہ چراغاں

رپورٹ و تصاویر انجم شہزاد

میلے ٹھیلے پنجاب کی روایات میں اہمیت کے حامل ہیں، اور پنجابی ثقافت میں میلوں میں جانا اور انجوائے کرنا اب خواب ہی لگتا ہے، دیہاتوں میں منعقد ہونے والے میلے تو لوگ اب بھی یاد کرتے ہیں، اور خاص کر صوفیا کے مزاروں پر لگائے جانے والے میلے صوفی ازم نوجوان نسل میں اجاگر کرتے ہیں، جبکہ لاہور میں جو میلے بہت مشہور و مقبول ہیں ان میں سید علی ہجویری داتا گنج بخش اور مادھو لال حسین جن کو پنجابی اور صوفی شاعری سننے پڑھنے والے شاہ حسین کے نام سے جانتے ہیں اور ان کی یاد میں جو میلہ لگتا اس کو میلہ چراغاں کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، اس دن لاہور میں مقامی چھٹی ہوتی ہے،اسی طرح لاہور میں پنجابی زبان اور پنجابی کلچر کو فروغ دینے والاواحدادارہ پنجا ب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک)، جو کہ محکمہ اطلاعات و ثقافت، حکومت پنجاب کا ذیلی ادارہ ہے اس کے زیر اہتمام عظیم صوفی شاعر شاہ حسین کی یاد میں چار روزہ ’’میلہ چراغاں ‘‘ کا انعقادپنجابی کمپلیکس قذافی سٹیڈیم لاہور میں کیا گیا جس کا افتتاح صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت سید صمصام علی بخاری نے چراغ روشن کر کے کیا۔ اس موقع پر پنجابی کمپلیکس کو خصوصی طور پر سجایا گیا تھا جس سے میلے کا سماں لگ رہا تھا اور ادارہ کی سربراہ نامور شاعرہ، کالم نگار، ٹی وی اینکر ڈائریکٹر جنرل پِلاک ڈاکٹر صغرا صدف مہمانوں کا استقبال کر رہی تھیں اور مہمانوں کو روائیتی چادر بھی پہنا رہی تھیں اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات سید صمصام بخاری نے ڈاکٹر صغرا صدف اور ان کی ٹیم کے فن و ثقافت کے فروغ میں کردار کو سراہتے ہوئے مبارکباد دی اور کہا کہ ہمیں معاشرے سے نفرت، بدامنی اور بداعمالی ختم کرنے کے لیے صوفیا کرام کے کردار اور تعلیمات کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے جو کہ سرا سر محبت، پیار، امن، مساوات اور اخوت پر مبنی ہے۔ میلہ چراغاں میں اِس موقع پر ادیبوں، شاعروں، فنکاروں، صحافیوں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ میلہ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے والوں میں گلوکار شوکت علی، اداکارراشد محمود، رائٹر ڈائریکٹر شاہد محمود ندیم، کالم نگار ہارون الرشید، شاعر ، کالم نگار منصور آفاق، معروف پنجابی شاعر بابا نجمی، ملک اشرف اعوان، ڈاکٹر کنول فیروز، کالم نگار یسین وٹو، ہارون عدیم، خاقان حیدر غازی، نامور شاعر ا فضل عاجز اور دیگر شامل تھے۔ ڈاکٹر صغرا صدف، ڈائریکٹر جنرل پِلاک نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ پِلاک اس طرح کی تقریبات کا انعقاد کر کے فن و ثقافت کے فروغ اور معاشرے میں امن، برداشت اور ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ افتتاحی تقریب کے بعد زرّیں پنا پرفارمنگ آرٹ ٹیم نے صوفیانہ رقص پیش کیا جسے عوام کی کثیر تعداد نے پسند کیا اِس کے بعد ڈھول کی تھاپ پر صوفی رقص / دھمال بھی پیش کی گئی جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔ اور اکثر منچلے ساتھ دھمال ڈالتے رہے، میلہ چراغاں میں گلوکار استاد شوکت علی، نامور فوک گلوکارہ بشریٰ صادق، سائرہ طاہر، سجاد علی بیلا، شبانہ عباس، حسنین اکبر، اسلم باہو (بابا گروپ)، تیمور افغانی، ناصر بیراج، نذیر احمد، سجاد بری، روہیل وقاص، دانیال عرف دانی، محسن سجاد، نفیسہ جاوید، عاشق لوہار، صابر حسین ڈھولچی اور ناہید طالب نے اپنے مخصوص انداز میں شاہ حسینؒ کی کافیاں اور صوفیانہ کلام پیش کر کے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔ اس موقع پر عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا اس چار روزہ میلہ چراغاں میں دستکاری، کتابوں اور پنجابی کھابوں کے مختلف سٹال بھی لگائے گئے ہیں۔عوام کی کثیر تعداد نے اس فیملی فیسٹیول یعنی میلہ چراغاں میں شرکت کی اور کہا کہ اس طرح کی فیملی اور صحت مندانہ تفریحی تقریبات ہوتی رہنی چاہیں اور پلاک اس حوالے سے ایسے اقدامات کرتا ہی رہتا ہے

« of 2 »
شیئرکریں