فلم ”مولا جٹ ”کی قانونی جنگ ‘ اتھارٹی کا ”دی لیجنڈ آف مولا جٹ ” ٹریڈ مارک دینے سے انکار

انٹلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان نے ” مولا جٹ ”کے پروڈیوسر سرور بھٹی کی درخواست پرلیٹر جاری کر دیا ‘فلم اب اس نام سے ریلیز نہیں ہو گی

40سال قبل فلم ” مولا جٹ ”بنائی جس کو کلاسک کا درجہ ملا حقوق اورٹائٹل میرے پاس محفوظ’فیصلہ حق کی فتح ہے: فلمسازمحمد سرور بھٹی

لاہور(شہزاد فراموش)کلاسک فلم ”مولا جٹ”کی قانونی جنگ رنگ لے آئی’ آئی پی او نے انسائیکلو میڈیا لاشاری فلمزکوٹریڈ مارک ” دی لیجنڈ آف مولا جٹ” دینے سے انکار کر دیا۔فلم اب اس نام سے ریلیز نہیں ہو سکے گی۔تفصیلات کے مطابق فروری1979 ء میں باہو فلمز کارپوریشن کے چئیر مین پروڈیوسر محمد سرور بھٹی نے ” مولا جٹ” کے نام سے فلم بنائی تو فلم نے کامیابیوں کے ریکارڈز قائم کئے۔ فلم کے حصہ میں بہت زیادہ شہرت آئی۔ فلم کی شہرت کو دیکھتے ہوئے پروڈیوسر عمارہ حکمت اور ڈائریکٹر بلال لاشاری نے اسی فلم کااگلا پارٹ بنانا چاہا تو سابق فلم کے پروڈیوسر محمد سرور بھٹی متحرک ہو گئے گزشتہ دنوں روزنامہ خبریں کے دوپہر کے پرچے ” نیا اخبار” میں اس عدالتی جنگ کے بارے میں تفصیلی آرٹیکل بھی شائع ہوا۔اس حوالے سے فلمساز سرور بھٹی نے ” خبریں ” کو بتایا کہ فلم کا سنسر سرٹیفکیٹ بھی میرے نام اور فلم کے حقوق ‘ اس کا ٹریڈ مارک ‘ ڈائیلاگز ‘ کہانی سب میری ملکیت ہیں اور جن کے عدالتی ثبوت بھی میرے پاس ہیں اس لئے جو ” مولا جٹ ” نام کی فلم یا اس کا نام فلم میں استعمال کریگا میںاس کیخلاف کارروائی کرنے کا حق رکھتا ہوں۔بلال لاشاری کی طرف سے فلم ” لیجنڈ آف مولا جٹ ” کے نام کی درخواست دی گئی تھی ۔ میری فلم ”مولا جٹ”کا ٹریڈ مارک ایگزامینرانٹلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان نے قانونی سٹیٹس دیکھنے کے بعدانہیں الاٹ کرنے سے انکار کردیا جو کہ سچ کی فتح ہے اور اس کا ثبوت انکے دستخطوں کے ساتھ جاری ہونیوالا لیٹر ہے جو میرے پاس موجود ہے۔

شیئرکریں
  • 2
    Shares