صدارتی ایوارڈیافتہ رائٹرناصرادیب کے اعزازمیں تقریب

حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ ملنے پر پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر رائٹر ناصر ادیب کے اعزاز میں لاہور پریس کلب میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا.

اس موقع پر پاکستان فلم انڈسٹری سے ناصر ادیب,حسن عسکری, راشد محمود, آمنہ الفت, عمارہ حکمت, الطاف حسین, پرویز کلیم, اچھی خان, جاوید رضا, عرفان کھوسٹ, ملک یعقوب نور،چودھری اعجاز کامران طارق ساحلی،ڈاکٹر صغرا صدف، نشو بیگم, محمد کمال پاشا،صفدر ملک،فیاض خان ودیگر نے خصوصی شرکت کی جبکہ لاہور پریس کلب کے سینئرنائب صدر ذوالفقارعلی مہتو، ممبرگورننگ باڈی عمران شیخ، محمد احمد رضا، سینئرممبرٹھاکر لاہوری،ناصر رضا،عمر شریف،علی عابدی،ندیم سلیمی اورعمر فاروق سمیت ممبران کی کثیرتعداد نے شرکت کی.تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہناتھاکہناصر ادیب لفظوں کی حرمت کو جانتے ہیں ان کی پہلی فلم ہی پرفارمنس والی تھی،انھوںنے ریڈیو پر ایکشن ڈرامہ کا رواج ڈالا، ناصر ادیب کاٹ دار جملہ لکھتے ہیں،ان کا ڈائیلاگ ” نواں آیا اے سونیاں ” طویل عرصہ گزرنے بعد آج بھی زبان زدعام ہے، ناصر ادیب کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ میرٹ پر ہوا ہے،یہ ایوارڈ پاکستان فلم انڈسٹری کو ملا ہے ایک سو ایک آدمی کہے گا ناصر ادیب کو صحیح ایوارڈ ملا ہے، پاکستان فلم انڈسٹری کی آج عزت بڑھی ہے، ایوارڈ ابھی اور فلمی شخصیات کو ملنے چاہیں، ایوارڈ پاکستان فلم انڈسٹری کا ایوارڈ ہے،انھوںنے بہت اچھا لکھا اور کمال کا لکھا،۔مقررین نے مزیدکہاکہ انھوںنے سب سے زیادہ فلموںکے لئے لکھااور ہمیشہ اپنے کام سے فلم انڈسٹری کو جگائے رکھا ان کے کام کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔لاہور پریس کلب کے سینئرنائب صدر ذوالفقار مہتو نے کلب کی جانب سے معززمہمان کو کلب آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ناصر ادیب کو صدارتی ایوارڈ سے نوازاجانابہت بڑے اعزازکی بات ہے اور مجھے یوںمحسوس ہوتاہے کہ ناصر ادیب کا ایوارڈ لاہور پریس کلب کا ایوارڈ ہے۔پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ یافتہ ناصر ادیب کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا تو ہال میں بیھٹے تمام لوگوں نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا. ناصر ادیب نے اپنے خطاب میں سب کا شکریہ ادا کیا. ناصر ادیب نے اعتراف کیا کہ میں نے ساری زندگی سید نور کی مخالفت کی آج کے بعد ان کی مخالفت نہ کرنے کا اعلان کرتا ہوں. حسن عسکری میرے استاد میرے محسن ہیں.مجھے حوصلہ دیا. میرے کام کی تعریف کی. جس کے بعد فلمیں لکھنے کا سلسلہ شروع ہوگیا. حزین قادری کو پنجابی کا شیکسپئر کہتا ہوں. ناصر ادیب نے کہا کہ الطاف حسین,محمد کمال پاشا, پرویز کلیم کے ساتھ رہا ہوں. ازدواجی زندگی کو چالیس سال سے زائد عرصہ گزرگیا ہے. اس دوران لڑائی جھگڑا بھی ہوا لیکن میرا ساتھ اب تک ہے .سب نے میری تعریف کی میری برائیاں بھول گئے ہیں۔ ناصر ادیب نے کہا کہ لاہور پریس کلب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جہنوں نے عزت بخشی ہے. ناصر ادیب کو لاہور پریس کلب کی جانب سے شیلڈ دی گئی۔تقریب کی میزبانی کے فرائض نعیم حنیف نے انجام دئیے۔

شیئرکریں
  • 1
    Share