فلم’’دل دا کی کراں‘‘فلم انڈسٹری میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوگی ظفر عباس کھچی

منفرد موضوع پر بنائی جائے گی، کہانی مکمل ہو چکی کاسٹنگ کے بعد شوٹنگز کا آغاز ہوگا، نعیم کاظمی

رپورٹ، انجم شہزاد

پاکستان میں اس وقت اردو فلموں کے ساتھ ساتھ پنجابی فلمیں بھی بنائی جا رہی ہیں اور فلم بین ان کو پسند بھی کرتے ہیں، ہمسائیہ ملک میں بھی اردو کے ساتھ دیگر زبانوں میں بھی فلمیں بنائی جاتی ہیں، اور وہ کامیاب بھی ہوتی ہیں،پاکستان میں بھی اردو کے ساتھ پنجابی، پشتو، کے ساتھ ساتھ سرائیکی زبان کی فلمیں بھی بنائی گئی ،لیکن زیادہ کامیابی اردو اور پنجابی فلموں کے حصے میں ہی آئی، اس وقت جہاں کراچی میں فلمیں بنائی جا رہی ہیں وہیں پاکستانی فلم انڈسٹری خاص کر لاہور کی انڈسٹری کی رونقیں دوبالا کرنے کے لیئے سینئرز کے ساتھ نئے پروڈیوسر ڈائریکٹرز بھی فلمیں بنا رہے ہیں، تا کہ فلم انڈسٹری کی رونقیں بحال ہوں، اور روٹھے ہوئے فلم بین طبقے کو واپس لایا جائے، اس کے لیئے جہاں نئے موضوعات کی ضرورت ہے وہاں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے، کیونکہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے، گزشتہ دنوں لاہور میں ایک فلم’’دل دا کی کراں ‘‘کی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی، جس میں فلم، ٹی وی، سٹیج کے نامور اور نئے فنکاروں نے بھرپور شرکت کی ،فلم کی تقریب،ظفر آرٹ اکیڈمی میں منعقد ہوئی، جن میں انڈسٹری کے جن نمایاں افراد نے شرکت کی ان میں ، اشرف خان، پرویز کلیم، عاصم بخاری، اجلال بخاری، اظہر رنگیلا،عمران احمد،گلوکارہ مہرین حسن،جانو بابا، لائبہ خان، بیا خان، ہانی بلوچ،سید سرور بخاری،فجر اریبہ،عبیرہ،انعام خان،ڈاکٹر تبسم، اور دیگر شامل تھے، فلم کے رائٹر انعام قادری ہیں، پروڈیوسر نعیم کاظمی، ڈائریکٹر ظفر عباس کھچی، اور شہباز مصطفی ہیں، اس موقع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فلم کے رائٹر انعام قادری جو کے فلم انڈسٹری کے نمایاں نام حزیں قادری کے فرزند ہیں ’’دل دا کی کراں‘‘کے حوالے سے کہا کہ یہ منفرد موضوع پر فلم ہوگی، جس میں پیار محبت، رومانس، کے ساتھکامیڈی، کا عنصر بھی موجود ہوگا، عام روائیتی جگت بازی کی جگہ سچوائشنل کامیڈی دیکھنے کو ملے گی، انعام قادری نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عام ڈگر سے ہٹ کر زیادہ سے زیادہ فلمیں بنائی جائیں تا کہ انڈسٹری میں ورائٹی دیکھنے کو ملے جبکہ انڈسٹری کے لوگ ہمیشہ سے لکیر کے فقیر رہے ہیں، یہ رجحان ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے، ہم نے کہانی پر بڑی محنت کی ہے، فلم کے ڈائریکٹر ظفر عباس کھچی جو اس سے پہلے چند چینلز کے لیئے ڈارمے بنا چکے ہیں، اور اداکاری کے شعبے میں بھی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں، بطور ڈائریکٹر ان کی پہلی فلم ہے انہوں نے کہا کہ نعیم کاظمی کافی عرصہ سے شوبز سے وابستہ ہیں، جو انڈسٹری کے عروج و زوال کے چشم دید گواہ ہیں، انہوں نے فلم بنانے کے حوالے سے میرے ساتھ بات کی تو ہم نے کہانی کی ذمہ داری انعام قادری پر ڈالی، جب انہوں نے ون لائن سنائی تو ہم نے فوری طور پر اسکرپٹ لکھنے کو کہا، اسکرپٹ مکمل ہو چکا ہے، اب کرداروں کی مناسبت سے فنکاروں کے انتخاب کا کٹھن مرحلہ طے کر کے جلد ریکارڈنگ کا آغاز کرنا ہے، ظفر عباس کھچی نے کہا کہ میں دعوی سے کہہ سکتا ہوں کے ایسے موضوع پر پہلے کسی نے طبع آزمائی نہیں کی ہوگی، ظفر عباس کھچی نے کہا کہ کاسٹنگ پر کام جاری ہے، جلد ہی کاسٹ کے ساتھ باقاعدہ فلم کی اووپننگ کی جائے گی، فلم میں سینئرز اور جونیئرز کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملے گا، ظفر عباس کھچی نے کہا کہ میں اپنی اکیڈمی کے باصلاحیت بچے بچیوں کو بھی اس فلم کے ذریعے متعارف کرواؤں گا، ہمارے ملک مین ٹیلنٹ کی کمی نہیں اچھے مواقع نہیں ملتے، ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سیکھ کر آنے والے اور خود رو پودوں کی طرح آنے والوں میں کیا فرق ہے، پروڈیوسر نعیم کاظمی نے کہا کہ میرا مقصد فلم سے پیسہ کمانا نہیں میںآرٹ لوور انسان ہوں عرصہ دراز سٹوڈیو میں گزارا ہے، میں چاہتا ہوں کہ میری فلم ٹرینڈ سیٹر ثابت ہو میں اور میری ٹیم محنت کر رہی ہے، اور امید ہے کہ ’’دل دا کراں‘‘فیملی فلم ثابت ہوگی، تقریب میں آنے والے مہمانوں کا پھولوں کے گلدستوں سے استقبال کیا گیا، اس موقع پر گلوکارہ مہرین حسن نے اپنی آواز کا بھی جادو جگایا، جس پر حاضرین نے تالیوں کی صورت میں داد دے کر مہرین حسن کا ساتھ دیا، پرویز کلیم جو انڈسٹری کے سینئر رائٹر و ڈائریکٹر ہیں ان کا کہنا تھا کہ نئے خون سے ہی فلم انڈسٹری کی رونقیں بحال ہوں گی، عاصم بخاری نے بھی مبارکباد دی،تقریب میں موجود افراد کا کہنا تھا کہ ایسی ہی مختلف موضوعات پر مبنی فلمیں فلم انڈسٹری کی رونقیں بحال کریں گی، اجلال بخاری، اظہر رنگیلا اور دیگر نے بھی مبارکباد دی، آخر میں ظفر عباس کھچی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جلد ہی کاسٹ فائنل کر کے فلم کی ریکارڈنف کا آغاز کروں گا اور ریکارڈ ٹائم میں فلم مکمل کر کے ریلیز کریں گے

شیئرکریں
  • 8
    Shares