پرومو لانچنگ تقریب سٹکام(دغا باز رے)

ہم نے میعاری سٹکام بنا کر کامیڈی میں چھایا جمود توڑنے کی کوشش کی، شازی خان

سچوایشنل کامیڈی وقت کی اہم ضرورت ہے، ’’دغا باز رے‘‘سینیئرز اور جونیئرز کا حسین سنگم ثابت ہوگی

رپورٹ، انجم شہزاد

گزشتہ کچھ عرصہ قبل تک ڈراموں کی باقاعدہ لانچنگ تقریبات منعقد کی جاتی تھیں مگر پھر ثقافتی تقریبات میں کمی آئی، مگر اب لاہور میں بھی دوبارہ ڈراموں کے حوالے سے تقریبات منعقد کی جانے لگی ہیں، جیسے گزشتہ دنوں کامیڈی سٹکام ’’دغا باز رے‘‘ کی تقریب منعقد ہوئی جس میں ڈرامہ کی کاسٹ کے علاوہ مہمان خصوصی میں نامور فلم ڈائریکٹر حسن عسکری ، اداکار خالد بٹ، اسد بیگ ، عباس باجوہ ،ہانی بلوچ ،اور دیگر نامور افراد نے شرکت کی ، تقریب ایج سٹوڈیو میں منعقد ہوئی جس کی کمپیئرنگ کے فرائض شکیل زاہد نے سرانجام دیئے، اس میں انہوں نے ڈرامے کے حوالے سے گفتگو کی اور فنکاروں کو سٹیج پر بلا کر ان کو اظہار خیال کی دعوت دی ،تقریب میں بتایا گیا کہ ’’دغا باز رے‘‘عام ڈگر سے ہٹ کر ہے،ورنہ آجکل جو سٹکام مختلف چینلز سے آن ائیر ہیں، ان میں چار پانچ اداکار ہوتے ہیں اور ایک ہی لوکیشن یا گھر میں پوری قسط ختم کر دیتے ہیں، کامیڈی کے نام پر اوچھی حرکتیں اور منہ بگاڑ بگاڑ کر باتیں کرتے ہیں اور اکثر چینلز پر تو وہی چند اقساط ہی بار بار دکھائی جا رہی ہیں اسی جمود کو توڑنے کے لیئے ’’بگ ویژن انٹرٹینمنٹ‘‘ کے روح رواں، نامور کمرشل میکر، ڈائریکٹر شازی خان نے ایک بگ کاسٹ کی سٹکام بنانے کا ارادہ کیا، تو مر حلہ یہ درپیش آیا کہ اس کا سکرپٹ کیسا ہو ، کیونکہ مختلف دکھانے کے لیئے جہاں کاسٹ میں تبدیلی ضروری تھی وہاں ہی کہانی پر بھی توجہ کی ضرورت تھی، کیونکہ اب ایسا ہو چکا ہے کہ ناظرین کامیڈی کے نام پر وہی چند اداکار اور چند اقساط دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں، اس لیئے’’ بگ ویژن‘‘ کے روح رواں شازی خان اور ماہ نور راجہ نے کافی سر کھپائی کے بعد سچوایشنل کامیڈی کو دوبارہ سکرین پر واپس لانے کے لیئے اس کے سکرپٹ پر کافی محنت کی ماہ نور راجہ جو اس سے پہلے ماڈلنگ کی دنیا میں ایک مقام رکھتی ہیں، اور اب اداکاری میں بھی اپنی صلاحیتیں آزما رہی ہیں، سکرپٹ لکھنے کے بعد کرداروں کی مناسبت سے فنکاروں کا انتخاب کیا گیا ’’دغاباز رے ‘‘ میں معاشرے میں بڑھتی ہوئی برائیوں، اور معاشرتی مسائل کو ہلکے پھلکے انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس سٹکام کے کردار ہمارے معاشرے کے عام اور حقیقی کردار ہیں،جو ہمارے آس پاس چلتے پھرتے نظر آئیں گے ۔ اس ڈرامے کے ڈائیریکٹر شازی خان ہیں اور پروڈیوسرچوہدری مبین کمبوہ ہیں ، ’’دغا باز رے‘‘ میں سینئرز، اور جونیئر فنکاروں کی ایک بڑی تعداد کام کر رہی ہے، چند سٹاک کیریکٹر ہیں، باقی فنکار آتے جاتے رہیں گے اب تک جن فنکاروں کا کام ریکارڈ ہو چکا ہے ان میں ذوالقرنین حیدر۔ راحیلہ آغا۔ راشد محمود۔ ماہ نور راجہ۔ ، صالحہ خان۔ شیزا خان۔ علینا چوہدری۔ محرمہ علی۔ شاہ رخ علی۔ علی خان۔ ملائکا علی ،حامد خان۔ ندیم نایاب۔ ریاض بلوچ ، اور موسیٰ خان شامل ہیں جبکہ ابی آنے والی اقساط میں انجم شہزاد، ہانی بلوچ،سامیعہ بٹ سوہا چوہدری، اقرا مقصود،اور دیگر فنکاروں کا کام عکسبند کیا جائے گا،، موسیٰ خان جو کہ اس ڈرامے میں بڑا اچھارول کر رہے ہیں، انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ ’’دغاباز رے‘‘ ایک زبردست سچوایشنل کامیڈی سے بھر پور ڈرامہ ہے، اور رائٹر ماہ نور راجہ نے بہت ہی کمال کا سکرپٹ لکھا ہے، ہر کردار پر محنت کی ہے، موسیٰ خان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سٹکام عام ڈگر سے ہٹ کر ہے اور مجھے یقین ہے کہ جب یہ چلے گا تو لوگ’’ بلبلے ‘‘اور دیگر ڈراموں کو بھول جایءں گے کیونکہ کہ اس سٹکام میں بہت سارے لوگ کام کر ر ہیں، میں نے ایک پٹھان گجر کا رول کیا ھے جو کہ بہت ہی چیلنجنگ رول ہے، ڈائریکٹر شازی خان نے بہت ہی عمدہ طریقے سے مجھ سے کام لیا ہے شازی خان ایک ٹیلنٹڈڈائریکٹر ہیں جنہوں نے ہر آرٹسٹ سے بہت عمدہ کام لیا ھے مجھے اْمید ہے کہ جب یہ ڈرامہ ٹی وی چینل پر چلے گا تو ان شا اللہ ہر طرف ’’دغابازرے‘‘کی دھوم ہوگی۔ ایک اور اہم کردار شاہ رخ علی کا ہے جو کہ پاکستانی شاہ رخ کے نام سے مشہور ہے، وہ بھی اس کردار میں پرفارمنس کی بلندیوں پر نظرآئیں گے، شاہ رخ نے کہا کہ شازی خان نے اچھے سکرپٹ کا انتخاب کیااور میرا کردار شاہ رخ کا ہی ہے، اس کردار میں کیا کیا کر رہا ہوں یہ ٹی وی سکرین پر ڈرامہ دیکھ کر ہی پتہ چلے گا،ڈرامہ میں ایک اور اہم رول علی خان کا بھی ہے،جو فلموں اور ٹی وی ڈراموں کا مستند نام ہیں اس سٹکام میں پولیس آفیسر کا منفرد رول کر رہے ہیں،جبکہ اس کے علاوہ پراپرٹی ڈیلر کا ڈبل رول بھی کر رہے ہیں، نامور اداکار ذوالقرنین حیدر بھی زبردست رول کر رہے ہیں،انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ساری ٹیم کی محنت ضرور رنگ لائے گی، مجھے سکرپٹ بھی اچھا لگا، شازی خان محنت بھی خوب کر رہا ہے جو سکرین پر نظر بھی آئے گی،مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ لاہور میں بھی اچھا ڈرامہ کرنے کو ملا، راحیلہ آغا کے کردار کو بھی لوگ یاد رکھیں گے، ماہ نور راجہ خود بھی بطور اداکارہ کام کر رہی ہیں، اس سے پہلے بہت سی کمرشلز میں اپنے فن کے جلوے دکھاچکی ہیں،اس حوالے سے ماہ نور راجہ کا کہنا ہے کہ میں نے کسی کا مقابلہ کرنے کا کبھی نہیں سوچا یہ سٹکام عام روائتی ڈگر سے ہٹ کر ہے، جس میں مختلف کردار ہیں ، جو ہمارے معاشرے کے ہی ہیں، سب نے مل کر محنت کی ہے ہر فنکار انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ نظر آئے گا، میں نے خود ذوالقرنین حیدر اور راحیلہ آغا کی بیٹی کا رول کیا ہے،سکرپٹ پر بھی محنت کی ہے اور کردار پر بھی ، جسے میرے پرستار پسند کریں گے،ماہ نور راجہ مصروفیت کی بنا پر تقریب میں شرکت نا کر سکیں،مہمان خصوصی نامور فلم ڈائریکٹر حسن عسکری نے کہا کہ مجھے پرومو دیکھ کر اچھا لگا، انشا اللہ یہ سٹکام عوام پسند کرے گی،خالد بٹ نے بی پرموو کی تعریف کی اور ان کے اصرارپر ڈرامہ کا پرومو دو دفعہ چلایا گیا جس پر ہال بار بار تالیوں سے گونجتا رہا، ڈائریکٹر شازی خان نے کہا کہ میں اس سے پہلے کافی ڈٖرامے اور ٹیلی فلمز کے علاوہ بے تحاشا کمرشلز بنا چکا ہوں ، اب کامیڈی سٹکام بنانے کا خیال آیا تو ماہ نور راجہ نے ایک اچھا سکرپٹ دیا اس میں کامیڈی کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاحی پہلو بھی نظر آئے گا، میرے ساتھ میرے پروڈیوسر چوہدری مبین بھی اس سٹکام کو شاہکار بنانا چاہتے ہیں،وہ پروڈکشن کے لحاظ سے مجھے ہر ممکن سہولیات مہیا کر رہے ہیں ڈرامہ کے ڈی او پی اقبال شاہ ہیں، جو فلم انڈسٹری کا جانا پہچانا نام ہیں، میوزک مون انتھونی،اور چندو کا ہے،سٹل فوٹو گرافر ایم یعقوب بھٹی ، اور میڈیا کوارڈی نیٹر انجم شہزاد ہیں،چوہدری مبین کمبوہ نے کہا کہ اس وقت کامیڈی سٹکام وقت کی ضرورت ہے اور ہم نے اس لیئے کامیڈی کا انتخاب کیا، اور یہ بھی کوشش کی کہ عام فہم جگت بازی یا اوچھی حرکتوں کی بجائے سچوایشنل کامیڈی کو فروغ دیا جائے،اور ساتھ ساتھ معاشرہ کی اصلاح بھی کی جائے اس میں ہم کس حد تک کامیاب ہوئے یہ ڈرامہ دیکھ کر ہی اندازہ ہوگا، آخر میں شازی خان نے کہا کہ اس سٹکام کے بعد ہمارے ادارے کے بینر تلے، دو ڈرامہ سیریل ’’تیرے بن جیا جائے نا‘‘ اور ایک ڈرامے کے سکرپٹ پر کام جاری ہے، جبکہ ایک فلم کا بھی پلان ہے، تقریب میں صالحہ خان، شیزا، ملائکہ، علی خان،نے بھی خطاب کیا ، جبکہ آخر میں نامور فلم ڈائریکٹر آغا حسن عسکری کے ہاتھوں کیک بھی کٹوایا گیا اور مہمانوں کی کھانے سے تواضع بھی کی گئی، میڈیا نے بھی اس تقریب میں بھرپور شرکت کی، اور مہمانوں نے فنکاروں کے کام کو پسند کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ سٹکام رجحان ساز ثابت ہوگی

شیئرکریں
  • 44
    Shares