میں خود پر کسی مخصوص کردار کی چھاپ نہیں لگوانا چاہتی، صالحہ خان

مقدار کی بجائے میعار کو مد نظر رکھ کر تھوڑا مگر اچھا کام کر رہی ہوں،فلموں کی بے تحاشا آفرز ہیں،مگر اچھا رول ملنے کا انتظار ہے

انٹرویو،انجم شہزاد

میں خود پر کسی مخصوص کردار کا لیبل نہیں لگوانا چاہتی، میں اپنے کام سے خود کو ورسٹائل فنکارہ ثابت کرنا چاہتی ہوں، ان خیالات کا اظہار، کمپیئر، ماڈل و اداکارہ صالحہ خان نے ایک ملاقات میں کیا پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ میں نے شوبز میں کام آغاز ’’خبرناک ‘‘ سے کیا تھا اور مجھے فیلڈ میں آئے ہوئے چار سال کا عرصہ ہو گیا ہے،پھر کمپیئرنگ کافی عرصہ ایک نجی چینل پر مارننگ شو’’رائل مارننگ‘‘ کرتی رہی، پھر مجھے ساتھ ہی ماڈلنگ اور اداکاری کی آفرز بھی آنا شروع ہو گیں، اور یوں میں کمپیئرنگ سے زیادہ برانڈ شوٹ اور اداکاری میں مصروف ہو گئی، مارننگ شوز کی آفرز بعد میں بھی ہوتی رہیں، مگر مصروفیات کچھ ایسی ہو گئی کہ پھر مارننگ شو کے لیئے ٹائم نکالنا مشکل ہوگیا، صالحہ خان نے کہا کہ مارننگ شو تو نہیں کر رہی مگر مختلف ملٹی نیشنل کمپنیز اور دیگر شوز کی کمپیئرنگ جاری ہے،ایک اور سوال کے جواب میں صالحہ خان نے کہا کہ بہت سی کمرشلز میں کام کیا، اور اللہ پاک کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہر کہ گزشتہ تین سالوں سے مجھے فلمز کی آفرز آرہی ہیں، مگر میں نے فلم میں کام کی ہامی نہیں بھری اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے اپنا کردار پسند نہیں آیا کوئی ایسا سکرپٹ نظر نہیں آیا کہ میں ہامی بھرتی، کیونکہ میں خود پر صرف فلمسٹار کا لیبل نہیں لگوانا چاہتی، میں اچھا کام کرنا چاہتی ہوں، لاہور میں فلمیں اس میعار کی نہیں بن رہیں حالانکہ لاہور میں فلم انڈسٹری عروج پر تھی یہاں بہت اچھا کام ہوتا تھا، مگر اب زیادہ تر کام کراچی میں ہو رہا ہے وہ چاہے فلمیں ہوں یا ڈرامے، صالحہ خان نے کہا کہ لاہور میں کچھ لوگ اب بھی اچھا کام کرنا چاہتے ہیں، اور ہوگا بھی ضرور ،مگر کراچی کی فلموں کا بھی ایک مسئلہ ہے کہ وہ ڈرامہ لگتی ہیں، فلم کا سٹائل ہی ڈیفرنٹ ہوتا ہے اور سیکنڈ یہ کہ ٹی وی فنکاروں کی بجائے نئے فنکاروں کو آزمایا جائے، جن فنکاروں کے چار پانچ ڈرامے ایک وقت میں چل رہے ہوں ان کو دیکھنے کونا آتا ہے،کچھ فلمیں چلی بھی مگر اب فلموں کا کام آہستہ ہو گیا ہے، اس حوالے سے حکومتی سطح پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے ، حکومت اگر فلم انڈسٹری پر توجہ دے تو اچھی فلمیں بنیں اور پاکستان کا سافٹ امیج پوری دنیا تک جائے، ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ میں مقدار کی بجائے میعار کی قائل ہوں اس لیئے کم مگر میعاری کام کرتی ہوں، ماڈلنگ کے حوالے سے صالحہ خان نے کہا کہ برانڈ شوٹس کے علاوہ فیشن شوز کے ساتھ ساتھ چند ویڈیوز میں بھی کام کرچکی ہوں، اور حال ہی میں ہمسایہ ملک کی بہت بڑی کمپنی ’’ٹی سیریز‘‘ کے ایک ویڈیو میں پرفارم کرنے جا رہی ہوں، یہ انٹرنیشنل کمپنی ہے، ، ایک اور سوال کے جواب میں صالحہ خان نے کہا کہ ہمسائیہ ملک سے مجھے فلموں کی بھی آفرز ہیں، مگر میں اپنے نام سے زیادہ ملک کی عزت کا خیال رکھتی ہوں،کیونکہ وہاں پاکستانی فنکاروں کو اس طرح کا کردار نہیں دیا جاتا، میں ولگیریٹی سے نام نہیں بنانا چاہتی، صالحہ خان نے کہا کہ پاکستان کی فیشن انڈسٹری عروج کی جانب گامزن ہے، ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں مجھے بشری انصاری اور فلمسٹار شان پسند ہیں، ایک اور سوال کے جواب میں صالحہ خان نے کہا کہ میں خود پر کسی مخصوص کردار کی چھاپ نہیں لگوانا چاہتی، میں اب ایک کامیڈی سٹکام ’’دغابار رے‘‘ میں کام کر ر ہی ہوں، جس میں بہت اچھا رول کر رہی ہوں، جلد ہی یہ سٹکام آن ائر ہو رہی ہے، میرے پرستار میرے کام کو سراہیں گے، صالحہ خان نے کہا کہ میں خود کو ورسٹائل ثابت کرنا چاہتی ہوں،خود پر کامیڈی، یا رونے دھونے کسی ایک سٹائل کی چھاپ نہیں لگوانا چاہتی پہلے چند ڈراموں میں کام کیا مختلف تھا، مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں کامیڈی بھی کر لوں گی مگر ڈرامہ کے ڈائریکٹر ’’شازی خان نے کہا کہ تم یہ رول کروگی اور کروایا، کیسا کیا یہ تو ڈرامہ دیکھ کر پتہ چلے گا، صالحہ خان نے کہا کہ پاکستان ڈرامے میں ہمیشہ ہمسائیہ ملک سے آگے رہا کیونکہ ہمارا ڈرامہ معاشرتی مسائل کا عکاس ہوتا ہے، جبکہ ہمسائیہ ملک کے ڈراموں میں ساس بہو کے جھگڑے، سازشیں ہوتی ہیں، جس کا ہمارے معاشرے پر بڑا برا اثر پڑا، بہت سے مسائل پیدا ہوئے، اب اچھا ہے کہ سابقہ چیف جسٹس نے پابندی عائد کی، ایک اور سوال کے جواب میں صالحہ خان نے کہا کہ جب تک ہماری فلمیں عالمی میعار کی نہیں بنیں گی ہمیں عالمی مارکیٹ نہیں ملے گی، ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ میں کسی سے جیلس نہیں ہوتی اپنے کام سے کام رکھتی ہوں ایک اور سوال کے جواب میں صالحہ خان نے کہا کہ جہاں پاکستان میں فیشن کے حوالے سے عالمی میعار کا کام ہو رہا ہے، وہیں فیشن شوز کے نام سے عجیب عجیب پروگرام بھی ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے فیشن انڈسٹری بدنام ہوتی ہے، ایک سوال کے جواب میں صالحہ خان نے کہا کہ محنت جاری ہے، خوب سے خوب تر کی جستجو جاری ہے ،اوروہ دن دور نہیں جب میں اپنے کام کی وجہ سے اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب ہو جاؤں گی

شیئرکریں
  • 9
    Shares