مذہب اور ثقافت کو الگ نہیں کیا جا سکتا، سید سہیل بخاری،

37سال سے کلچر ، ثقافت کی خدمت کر رہا ہوں،ثقافت کسی بھی ملک کی پہچان ہوتی ہے

وزارت ثقافت کاغذی تنظیموں کو گرانٹ دینا بند کرے، جو لو گ کام کر رہے،ان کو نظر انداز نہ کیا جائے

انٹرویو، انجم شہزاد

ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان وطن عزیز کی واحد انتہائی فعال تنظیم ہے جوکہ اب تک سینکڑوں کی تعداد میں پروگرامز منعقد کر چکی ہے اور کررہی ہے۔ اس تمام تر جدوجہد کا سہرا صرف اور صرف ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل سید سہیل بخاری کے سر جاتا ہے۔سید سہیل بخاری نجیب الطرفین سید ہیں۔ آپ دسویں امام حضرت امام علی نقی ؑ کی اولاد ہیں اور ان کاسلسلہ نسب برصغیر کے نامور صوفی اور روحانی بزرگ حضرت سید عزیز الدین ؒ المعروف حضرت سید پیر مکیؒ لاہور سے جا ملتا ہے۔ آپکے والد گرامی 21ویں صدی کے عظیم صوفی بزرگ تھے ان کا مزار چشت نگر مناواں نزد یادگار شہیداں لاہور پر واقع ہے ان کا نام حضرت سید پیر محمد صدیق شاہ المعروف حضرت سید پیر چشتی اولیا ء سخی سرکار مکیؒ لاہور ہے۔ان کا عرس ہر سال 6-5ستمبرکو ہوتا ہے۔ سید سہیل بخاری کا اصل نام سید ظفر عباس شاہ ہے اور سید سہیل بخاری کے نا م سے مشہور و معروف ہیں ۔ آپ نیشل کونسل فارطب سے رجسٹرڈ کو الیفائیڈطبیب ہیں اور روحانی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی ہے۔ ان کا آستانہ اور دواخانہ ہما بلاک میں واقع ہے۔اتنی لمبی تمہید باندھنے کا مقصد صرف ا ور صرف یہ ہے کہ سید سہیل بخاری کسی بھی ملک کی ثقافت کو اس کی پہچان سمجھتے ہیں ان لئے انہوں نے 1981ء میں ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کی بنیاد رکھی اور آج اس تنظیم کو 37سال ہوگئے ہیں۔سید سہیل بخاری نے بتایا کہ مذہب اور ثقافت کو علیحدہ علیحدہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے مذہبی رجحان ہونے کے باوجودسیدسہیل بخاری نے زندگی کے مختلف شعبوں جن میں فن ، آرٹ ، کلچر،ادب ، تعلیم اور دیگر شامل ہیں ان کے فروغ کیلئے 37سال سے دن رات کام کیا اور کرہے ہیں۔ان تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لیجنڈز کوٹربیوٹ پیش کرنے کیلئے ” اعترافِ فن” اور “اعترافِ خدمت ” سمیت متعدد پراگرامز کا انعقاد کا سنگ میل عبور کرچکے ہیں۔ اور آج ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان انکی دن رات محنت ، کوشش سے ذاتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ایک بڑا نام اور مقام بنا چکی ہے۔سیدسہیل بخاری نے بتایا کہ ہم 37سال سے ہر سال “ایشین ایوارڈز” اور 25سال سے ہرسال “ایشین ایکسی لینس پرفارمنس ایوارڈز” منعقد کر رہے ہیں۔ سید سہیل بخاری نے بتایا کہ ایشین کلچرل ایسوسی ایشین آف پاکستان ملک کا واحد فعال ، ثقافتی ، فلاحی، اور نان کمرشل ادارہ ہے جو اپنے لیجنڈز کو نہ صرف ان کی زندگی میں بلکہ بعد ازمرگ بھی انکے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے میں پیش پیش رہتی ہے۔ سید سہیل بخاری نے کہا کہ ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرامز غیر تجارتی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ ہمارے دعوت ناموں پر سینکڑوں کے حساب سے نام درج نہیں ہوتے اور اگر ان درج شدہ ناموں سے پانچ پانچ ہزار روپے بھی لیا جائے لوگ لاکھوں روپے اکٹھے کر لیتے ہیں مگر ہم ایسا نہیں کرنے ہمارے دعوت ناموں پر صرف اور صرف میرا نام ہوتا ہے۔ سید سہیل بخاری نے کہاکہ ہم کسی پر تنقید نہیں کرتے بلکہ حقیقت بیان کر تے ہیں۔ سید سہیل بخاری سے مزید کہاکہ آج کل فیشن شو کے نام سے نئے ٹیلنٹ سے پیسے بٹورے جاتے ہیں اور نہ ہی اس طرح انکی پرموشن ہوتی ہے بلکہ بدنامی ہوتی ہے۔ سید سہیل بخاری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جولوگ بلاجواز مجھ پرتنقید کرتے ہیں اس سے مجھے اورمیرے کام میں بہتری آتی ہے۔ اور جو لوگ تنقید کرتے ہیں ان سے میرا اللہ کے کرم سے چیلنج ہے کہ میراجیسا کام کرکے دکھائیں ۔سیدسہیل بخاری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار میڈیا سے وابستہ لیجنڈز اور شخصیات کی خدمات کے اعتراف کیلئے ایشین میڈیا ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیا۔جس میں میڈیا مالکان ، ایڈیٹرز، چیف ایڈ یٹرز ، کالم نگار، رپورٹرز ، چیف رپورٹرز، فوٹو گرافر ز، لیونگ لیجنڈز جرنلسٹ ،پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے افراد و شخصیا ت کو ایوارڈز دینے کی تین تقریبات کرچکے ہیں۔ جبکہ چوتھی تقریب ستمبر کے پہلے ہفتے میں منعقد کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ ایشین میلوڈی ایوارڈز بھی میوزک سے وابستہ افراد و شخصیات کو ان کی خدمات پر دئیے جاتے ہیں ۔ایشین میلوڈی ایوارڈزکی تقریبات ایشین میڈیا ایوارڈز کے ساتھ منعقد ہوتی ہیں ۔ایشین میڈیا ایوارڈز میڈیا کے افراد کے علاوہ ان شعبوں کے افراد و شخصیات کو بھی دئیے جاتے ہیں جن کی وجہ سے میڈیا کو فروغ ملا ان میں تعلیم کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ سیدسہیل بخاری نے بتایا کہ آرٹ ، کلچر کے فروغ میں لاہور آرٹس کونسل (الحمراء) کے سابقہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیپٹن (ر) عطاء محمد خان کے شاندار کردار کا ذکر نہ کروں توزیادتی ہوگی۔ ان کے دور میں آرٹ کے تمام شعبہ کی ترقی ہوئی ہے۔اسی طرح پلاک کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صغریٰ صدف کا پنجاب کی ثقافت اور صوفی ازم کے فروغ میں نمایاں کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتاہے۔میں کہتا ہوں کہ یہ دونوں شخضیات آرٹ،کلچر، اور صوفی ازم کیلئے بہت اہم ہے حکومت کو انکی خدمات سے استفادہ حاصل کرتے رہنا چائیے۔سید سہیل بخاری نے ایک سوال کے جواب میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جو تنظمیں فعال ہیں انکو حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں دی جاتی بلکہ سفارشی اور کاغذی تنظیموں کو لاکھوں روپے کی گرانٹ دی جاتی ہے اور سب سے زیادہ گرانٹ “فقیر خانہ “کو دی جاتی ہے جوکہ سراسر زیادتی ہے۔ “فقیر خانہ “کیا کردار ادا کرتا ہے آرٹ ، کلچر میں مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی ۔ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان کو اس لئے گرانٹ نہیں دی جاتی کہ ہم نے اسکو رجسٹرڈ نہیں کروایا کا غذی تنظیموں کی طرح ،سید سہیل بخاری نے بتایا کہ حکومت کو چائیے کہ کارکردگی کی بنیاد پرگرانٹ دی جائے۔ رجسٹریشن کو مدِنظر نہ رکھا جائے ۔ سالانہ کارکردگی دیکھی جائے اور ہمارے ساتھ جو زیادتی ہر سال کی جارہی ہے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سر کردہ لوگ اس استحصال کو بند کرے۔ سید سہیل بخاری نے بتایا کہ اب ہماری ایسوسی ایشن ہر ضلع میں نمائش اور ایوارڈز تقریبات منعقد کرے گی۔ جس میں سب سے پہلے راولپنڈی اسلام آباد اور پھر ملتان ، گوجرانوالہ ، اوکاڑہ، سیالکوٹ، گجرات، پشاور، کراچی، کوئٹہ ، اور دیگر اضلا ع میں بھی تقریبات کا انعقاد کررہی ہے انشاء اللہ ۔سید سہیل بخاری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے سپانسر بہت کم ملتے ہیں ،جو سپانسر ملتا بھی ہے وہ بہت کم ہوتا ہے جس سے تقریب کے اخراجات مکمل نہیں ہوتے تو مجبوراََ مجھے دوست احباب سے قرض لینا پڑتا ہے۔ اور میں آج بھی مقروض ہوں ۔ میں نے تقریبات کا سلسلہ ان وجوہات کی بنا پر بند بھی کردیاتھا مگر پھر دوست احباب اور میرے ساتھ ایسوسی ایشن میں کام کرنے والے ممبران اور پاکستان کے لیونگ لیجنڈز کے اصرار پر دوبارہ تقریبات کا انعقاد شروع کر دیا۔سید سہیل بخاری نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ ایوارڈز تقریبات ، ٹربیوٹ شوز کے لئے ایکسائز اور ڈپٹی کمشنر سے این او سی کی پابندی ختم کی جائے ۔ سید سہیل بخاری نے حکومت پاکستان سے 37سال خدمات کے اعتراف میں پرائیڈ آف پرفامنس کا مطالبہ بھی کیا ہے اور وزات اطلاعات و ثقافت سے سالانہ گرانٹ اور ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔

شیئرکریں
  • 7
    Shares