میں نے ہمیشہ کم مگر میعاری کام کیا، عروج قریشی

میں نے ہمیشہ کم مگر میعاری کام کیا، عروج قریشی

اکثر فنکار فلموں میں کام کا خواب سجا کر شوبز میں آتے ، میں خوش قسمت ہوں کام کا آغاز ہی فلم سے کیا

فلم انڈسٹری کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیئے آپس کے اختلافات مٹا کر مل جل کر فلمیں بنانا ہوں گی،
اس وقت کراچی یا لاہور کی فلم کی بجائے پاکستانی فلم کی ضرورت ہے، کہانی، میوزک اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے،

دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے، کہانی میں جدت کی ضرورت ہے، یہاں ایک فلم ہٹ ہو تو سب لکیر کے فقیر بن جاتے ہیں،

ٹی وی ڈرامہ معاشرتی مسائل کا عکاس ہوتا ہے، گلیمر کے نام پر ہمسائیہ ملک پتہ نہیں کیا کیا دکھا دیتا، ہمیں اپنے ڈراموں میں حقیقی کلچر پیش کرنے کی ضرورت ہے،

جنوبی پنجاب ، شوبز کے حوالے سے کافی زرخیز ہے، اس علاقے سے بہت سے فنکار شوبز میں آئے اور انہوں نے اپنی پہچان بنائی، جن میں انجمن، گوری، ریما، صائمہ، ثنا، تابندہ، محسن گیلانی، نواز انجم، آغا ماجد، اور ان میں ہی ایک نام عروج قریشی کا بھی ہے، جس نے بہت مختصر عرصہ میں اپنی اداکاری اور خوبصورتی سے ایک منفرد مقام بنایا، اور عروج قریشی اس حساب سے خود کو خوش قسمت بھی سمجھتی ہے کہ اکثر اداکار ٹی وی، ما ڈلنگ کے بعد بڑی سکرین پر جلوہ گر ہوتے ہیں، جبکہ میں نے آغاز ہی فلم سے کیا’’پیار تو ہوتا ہے‘‘ میری پہلی فلم تھی، جس کے ہدائتکار خلیق احمد تھے، گو کہ وہ فلم زیادہ کامیابی حاصل نا کر سکی، مگر اس فلم نے میرے لیئے شوبز میں آنے کے راستے آسان کر دیئے، فلمسٹار کا لیبل میرے نام کا حصہ بن گیا، عروج قریشی نے کہاکہ اس کے بعد ٹی وی ڈراموں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا، مگر پھر کچھ عرصہ ڈراموں میں کم کام کرنے کی وجہ سے لوگوں نے سمجھا کہ شائد عروج قریشی شوبز سے کنارہ کش ہوگئی ، جبکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی، گزشتہ دنوں عروج قریشی سے ہونے والی گفتگو قارئین کی دلچسپی کے لیئے پیش خدمت ہے،شوبز انڈسٹری میں آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والی بات ہوتی ہے، میں نے کچھ عرصہ شوبز سے میں کام کم کر دیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں شوبز سے کنارہ کش ہو گئی تھی،میں نے اپنی پرفارمنس کے بل بوتے پر اپنی مختلف پہچان بنائی، اب دوبارہ مجھے محنت کرنا پڑ رہی ہے، مگر اتنا ہے کہ میں ابھی تک لوگوں کو یاد ہوں میرے کیئے ہوئے رولز ابھی تک لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئے، میں نے پی ٹی وی پر بہت کام کیا سرائیکی ،اردو، پنجابی سبھی ڈراموں میں کام کیا، ٹی وی کے پروڈیوسر اسلم قریشی کے ڈراموں نے پہچان دی، پرائیویٹ سیکٹر میں بھی کام کیا، نسیم حیدر شاہ، شہزاد حیدر اور دیگر ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کر کے بہت کچھ سیکھا، عروج قریشی نے، پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ٹی وی ڈرامہ کچھ عرصہ قبل اپنی حقیقی روح سے دور ہو گیا تھا اور اس پر ہمسائیہ ملک کے ڈراموں کا اثر ہوگیا تھا، اسی طرح کی ڈریسنگ وہی سٹائل، اور ہمسائیہ ملک کے فنکاروں کو کاسٹ بھی کیا جانے لگا، مگر وہ ٹرینڈ زیادہ اثر چل نا سکا، اب ہمارا ڈرامہ اپنے اصل کی طرف لوٹ آیا ہے، اور اب تمام چینلز کے ڈرامے عوام میں بے پناہ مقبول عام ہیں، ایک سوال کے جواب میں عروج قریشی نے کہا کہ ٹی وی ڈرامہ محض انٹر ٹینمنٹ نہیں بلکہ اس سے اصلاح معاشرہ کا کام لیا جا سکتا ہے، اور ہمارے ڈرامے ہمیشہ میعاری اور حقیقی مسائل کے عکاس ہوتے ہیں ان میں اپنے آس پاس کی کہانیاں دیکھنے کو ملتی ہیں، جب ایک سرکاری چینل تھا تو محدود موضوعات پر ہی ڈرامے بنتے تھے، کیونکہ سرکاری چینل قومی چینل کی حیثیت رکھتا ہے، تو اس پر سنسر پالیسی بھی سخت ہوتی تھی، مگر اب تو اس پر بھی اتنی پابندیاں نہیں، جبکہ پرائیویٹ چینلز پر بہت سے بولڈ موضوعات پر بھی ڈرامے دیکھنے کو ملتے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد ان کو پسند بھی کرتی ہے،ایک سوال کے جواب میں عروج قریشی نے کہا کہ پی ٹی وی پر میں نے تمام سینئرز کے ساتھ کام کیا، پی ٹی وی ہمارے لیئے اکیڈمی کا درجہ رکھتا ہے،ہمیشہ سینئرز کی عزت کی اور ان سے سیکھنے کی کوشش کی جبکہ آجکل کے نوجوان فنکاروں میں سیکھنے کا جذبہ نہیں اور نا ہی سینرز کا ادب احترام کرتے جس طرح ہم کرتے تھے، ایک اور سوال کے جواب میں عروج قریشی نے کہا کہ جب ایک ٹی وی چینل تھا تب کام حاصل کرنا بہت مشکل تھا، مگر اب چینلز بھی زیادہ ہیں، پروڈکشنز بھی زیادہ ہو رہی ہیں اب لوگ مقدار دیکھتے میعار پر توجہ نہیں دی جاتی، عروج قریشی کا کہنا ہے اب کام حاصل کرنا مسئلہ نہیں بلکہ اپنی پہچان بنانا اور اس کو برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہے،ایک سوال کے جواب میں عروج قریشی نے کہا کہ اگر فلم کروں گی تو ایسی جس میں پرفارمنس کا مارجن ہو، شوپیس کے طور پر کام کا ارادہ نہیں، فلم سکرین کا ایک اپنا چارم ہے، ہر فنکار کی خواہش ہوتی کہ وہ فلم میں کام کرے،مگر میں نے آغاز ہی فلم سے کیا تو ئس طرح شوق نہیں، رول اچھا ہوا تو ضرور کام کروں گی، ایک سول کے جواب میں عروج قریشی نے کہا کہ اب یہ بحث سننے میں آتی کہ یہ لاہور کی فلم یہ کراچی کی فلم ہے، میرا کہنا ہے کہ لاہور کراچی کی بحث چھوڑ کر ہمیں پاکستان کی فلم کہنا چاہیے، اور آپس میں مل جل کر کام کرنا چاہیئے تا کہ دنیا کا مقابلہ کر سکیں، بجائے اس کہ کہ خود ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے رہیں، کہانی کی مضبوطی ضروری ساتھ اچھا میوزک ہو، اور ہمیشہ لکیر کے فقیر نا ہوں ، نئے موضوعات اور نئے چہرے آنے چاہیں، ایک سوال کے جواب میں عروج قریشی نے کہا کہ کامیڈی ہر دور میں پسند کی جاتی ہے، اور پی ٹی وی نے ہمیشہ عمدہ میعاری کامیڈی تخلیق کی ہے، جن کی مثال، ’’ففٹی ففٹی‘‘انکل سرگم، الف نون، جنجال پورہ، اور دیگر بہت سے کامیڈی ڈرامے ہیں، جن میں ہنسی مذاق میں اصلاح معاشرہ کا کام بھی لیا جاتا رہا، جبکہ اب اگر دیگر چینلز پر کامیڈی دیکھی جائے تو جگت بازی، یا اوچھی حرکتیں دیکھنے کو ملتی ہیں ، یا چند کرداروں کے ڈرامے ان سے بوریت ہونے لگی ہے،عروج قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں اپنے کام سے کام رکھتی ہوں نہ کبھی کسی سے جیلس ہوئی نا لڑائی جھگڑا کرتی، ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ میں جولی طبیعت کی ہوں، سیٹ پر خاموش نہیں بیٹھتی، ساتھ فنکاروں سے گھل مل جاتی اور ہنسی مذاق کرتی رہتی،کیونکہ فنکار سب ایک دوسرے کے لیئے فیملی کی طرح ہوتے ہیں،عروج قریشی نے کہا کہ ایک ڈراموں کی بات چل رہی ہے، میری عادت ہے کہ کم مگر میعاری کام کرتی ہوں ، میں ہر ڈرامہ میں نظر نہیں آنا چاہتی، ایسا رول کرتی ہوں جس میں پرفارمنس کا مارجن ہو،ماڈلنگ بھی ساتھ ساتھ جاری ہے،اس کے علاوہ بیرون ملک شوز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہوں، عروج قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی بھی فنکار بیرونی دنیا میں پاکستان کا ثقافتی سفیر ہوتا ہے، بیرون ملک کام کے ذریعے ہمیشہ پاکستان کا نام روشن کیا، ابھی دوبئی ، میں ثقافتی طائفے کے ساتھ پرفارم کیا، جلد ہی، لندن، اور کینیڈا جا رہی ہوں، اس لیئے ٹی وی ڈراموں اور فلموں کو کم ٹائم دے پا رہی ہوں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ کام کرنا نہیں پاکستان نے مجھے پہچان دی، نام دیا، یہاں بھی ساتھ ساتھ کام جاری ہے، مزید بھی کرتی رہوں گی، کینیڈا سے واپسی پر ’’اپنا چینل‘‘ اور ’’روہی‘‘ ٹی وی کے ڈراموں کی ریکارڈنگز مکمل کرواوں گی، عروج قریشی نے کہا کہ پنجابی، اردود کے ساتھ پشتو فلموں میں بھی کافی کام کی، اب بھی آفرز ہیں، وہ بھی اس وجہ سے شروع نہیں کیں، ایک سوال کے جوب میں عروج قیشی نے کہا کہ اچھی موسیقی سنتی ہوں، فارغ وقت میں پرانے گانے سنتی ہوں ، کھانا پکانا بھی آتا ہے، کردار کی مناسبت سے ڈریس استعمال کرتی ہوں، سیر و تفریح کی دلدادہ ہوں، اچھا کھانا، اچھا پہننا میری کمزوری ہے، مگر اپنی فٹنس کا بھی خاص خیال رکھتی ہوں،عروج قریشی نے کہا کہ اداکاری، ماڈلنگ، ساتھ ساتھ ہی جاری ہیں، اور جاری عکھوں گی، نئے آنے والوں کو یہی کہوں گی کہ سینئرز کا ادب احترام کریں ان کے کام کو دیکھ کر سیکھنے کی کوشش کریں،

شیئرکریں
  • 26
    Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں