2019میری کامیابیوں کا سال ہوگا، ماہ نور راجہ

2019میری کامیابیوں کا سال ہوگا، ماہ نور راجہ

اداکاری ، ماڈلنگ کے ساتھ اب میرا دھیان سکرپٹ رائٹنگ پر ہے،فلم میں کام کا کوئی ارادہ نہیں،

’’بگ ویژن انٹرٹینمنٹ ‘‘ کے نام سے اپنا ادارہ ہے ،پروڈکشن کا تجربہ اچھا ثابت ہوا، ابھی ایک سٹکام ’’دغا باز رے‘‘زیر تکمیل ہے، مزید پراجیکٹس پائپ لائن میں ہیں،

انٹرویو، انجم شہزاد

ماڈلنگ سے کام کا آغاز کیا ، کچھ عرصہ شوبز سے دور رہی اور اب ماڈلنگ ، ایکٹنگ کے ساتھ ڈرامہ کے سکرپٹ لکھنے کا آغاز کیا ہے،ڈرامہ لکھنے کا تجربہ اچھا رہا، میرے لکھے سٹکام کی ریکارڈنگ جاری ہے، اس میں خود بھی ایک رول کر رہی ہوں، اب لاہور میں شوبز سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے، ان خیالات کا اظہار ماڈل و اداکارہ، و ڈرامہ رائٹر ماہ نور راجہ نے ایک ملاقات میں کیا، پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ماڈلنگ بھی اداکاری ہی ہے، بلکہ میرے خیال میں ماڈلنگ مشکل کام ہے کیونکہ تھوڑے وقت میں اپنے چہرے کے تاثرات کے ذریعے اپنا مقصد بیان کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے، اور میں نے کام کا آغاز ہی ماڈلنگ سے کیا، میرے کافی کمر شلز ٹی وی چینلز پر آن ائیر ہیں،اداکاری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اداکاری کا شوق کسے نہیں ہوتا، اداکاری کا شوق ہمیشہ سے تھا مگر اس کو دل میں چھپا کے رکھا تھاکیونکہ شوق ماڈلنگ کے ذریعے پورا ہوتا رہا، مگر پھر سوچا کہ اب ایکٹنگ فیلڈ میں بھی آنا چاہیے، یوں میں نے اب لاہور سے شوبز سرگرمیوں کا آغاز کیا، اور اس وقت چند پراجیکٹس میں کام کر رہی ہوں، ایک سوال کے جواب میں ماہ نور راجہ نے کہا کہ پاکستانی ٹی وی ڈرامہ ہمیشہ عوام میں مقبول رہا ہے، خاص کر سرکاری چینل جب اکلوتا تھا اس پر ہماری معاشرتی کہانیاں پیش کی جاتی تھی جو حقیقت سے قریب تر ہوتی تھی، جنہیں عوام پسند بھی کرتے تھے، جب سے پرائیویٹ چینلز آئے ہیں، موضوعات میں بہت وسعت آگئی ہے، کچھ ڈرامے بہت زیادہ بولڈ موضوعات پر بنائے جا رہے ہیں، جو شائد حقیقت کے تو قریب ہیں، مگر ہمارا مشرقی معاشرہ ہے، اس میں ایسے موضوعات فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنا ذرا مشکل ہے، اس لیئے میں یہ کہوں گی کہ رائٹر کے اندر خود بھی تھوڑا سنسر ہونا چاہیے، ماہ نور راجہ نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ہمارے ڈراموں پر بھی ہمسایہ ملک کے ڈراموں کا اثر ہوا تھا، مگر وہ سحر جلد ہی ختم ہوگیا، اس وقت پاکستانی ڈرامہ عروج پر ہے، کچھ اچھا ہوا کہ چیف جسٹس صاحب نے انڈین مواد پر پابندی لگائی، میرا کہنا ہے کہ انڈین فلموں پر بھی پابندی ہونی چاہیے، ہاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا، جس کے مطابق ہمارا کلچر وہ نہیں، انہوں نے اپنی فلموں اور ڈراموں کے ذریعے اپنا کلچر ہماری نوجوان نسل کی رگوں میں شامل کر دیا، ہمارے ڈراموں اور فلموں میں کلچر کو اس طرح پرموٹ نہیں کیا جاتااس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، ایک سوال کے جواب میں ماہ نور راجہ نے کہا کہ ایکٹنگ کے ساتھ ساتھ ڈرامہ رائٹنگ بھی کر رہی ہوں، میرا پہلاپراجیکٹ ’’دغا باز رے‘‘کے نام سے شوٹ ہو رہا ہے، جس کے ڈائریکٹر شازی خان ہیں، جو اس سے پہلے کافی کمرشلز اور ٹیلی فلمز بنا چکے ہیں،یہ ڈرامہ میری ہوم پروڈکشن یعنی ’’بگ ویژن انٹرٹینمنٹ‘‘ کی پیشکش ہے، ماہ نور راجہ نے کہا کہ ’’دغا باز رے‘‘ایک سٹکام ہے، اس میں نئے فنکاروں کے ساتھ سینئرز کا حسین سنگم دیکھنے کو ملے گا، ہماری سٹکام عام ڈگر سے ہٹ کر ہے، جو سٹکام آجکل آن ائیر ہیں، اس میں چار پانچ کیریکٹر ایک ہی گھر میں پوری قسط ریکارڈ کر لیتے ہیں،جس میں کہانی نام کو نہیں مگر ’’دغا باز رے ‘‘ میں ایسا نہیں، ماہ نور راجہ نے کہا کہ میں اس سٹکام میں ذوالقرنین حیدر اور راحیلہ آغا کی بیٹی کا رول کر رہی ہوں،ماہ نور راجہ نے کہا کہ اس کے علاوہ ٹی وی سیریل اور فلموں کے سکرپٹ لکھ رہی ہوں،’’دغا باز رے‘‘ کے علاوہ ’’تیرے بن جیا جائے نا‘‘ اور ’’شغل اعظم‘‘اور فلم’’بنگلہ 42‘‘شامل ہیں، ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے ہمیشہ سینئرز سے سیکھنے کی کوشش کی ان کا ادب کیا ، کیونکہ وہ ہمارے لیئے اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں، ماہ نور راجہ نے کہا کہ فلم انڈسٹری پر جو زوال کا ٹائم تھا وہ گزر چکا ہے، اب نیا خون فلم انڈسٹری میں آیا ہے، وہ چاہے ایکٹر ہوں، سنگرز، میوزک ڈائریکٹرز، یا ٹیکنیشنز سب نئے نئے تجربات کر رہے ہیں، مگر اس وقت ایک چیز کی اشد ضرورت ہے کہ آپس میں مقابلہ کرنے کی بجائے مل کر کام کیا جائے اور بیرونی دنیا کا مقابلہ کیا جائے، اب فلم میں بھی موضوعات میں تبدیلی آئی ہے مگر کچھ لوگ اب بھی پرانی ڈگر پر کام کر رہے ہیں،لاہور اور کراچی کی انڈسٹری سے نکل کر پاکستانی فلم بنانے کی ضرورت ہے، پنجاب کا کردار ہمیشہ اہم رہا، پنجابی فلموں نے ہمیشہ پاکستانی انڈسٹری کو سنبھالا دیا، مگر ساتھ ہی قومی زبان اردو میں بھی زیادہ فلمیں بنائی جائیں اور بیرون ملک مارکیٹ بنائی جائے، کیونکہ پاکستان میں اتنے سینما نہیں اور جو آجکل کے ماڈرن سینما ہال ہیں، ان کی ٹکٹ عوام برداشت نہیں کر سکتی، فیملی ایک دفعہ فلم دیکھ لے تو ان کا ماہانہ بجٹ متاثر ہو جاتا ہے، خود فلم میں کام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ فی الحال خود فلم میں کام کا کوئی ارادہ نہیں،ایک اور سوال کے جواب میں ماہ نور راجہ نے کہا کہ اداکاری، ماڈلنگ، ڈرامہ نگاری ساتھ ساتھ ہی جاری رہے گی،ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ بھرتی کا رول کر کے خود کو ضائع نہیں کرنا چاہتی، شوپیس والا کام کبھی نہیں کیا، ہمیشہ پرفارمنس کے ذریعے اپنی پہچان بنائی، ماہ نور راجہ نے کہا کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں اور جو لوگ شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں، کامیابی ان کا مقدر نہیں بنتی، رشوت، سفارش، یا شارٹ کٹ ایک دفعہ تو شائد چل جائے مگر ٹیلنٹ کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا،ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت کام حاصل کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا اپنی پہچان بنانا مشکل ہے، اور پہچان بنا کے اس کو برقرار رکھنا اس سے بھی مشکل ہے، جب ایک چینل تھا تو لوگ ایک آدھ ڈرامے سے ہی ہٹ ہو جاتے تھے، وہ آرٹسٹ اگر اب فیلڈ میںآتے تو انہیں بھی بہت مشکل ہوتی، اب ایسا بھی ہوتا کہ کسی آرٹسٹ کے کافی پراجیکٹ آن ائیر ہوتے تب بھی لوگ کہتے کہ آپ آجکل کم نظر آتے ہیں، کیونکہ دنیا فاسٹ ہے، اور ہماری پرفارمنس ریموٹ کنٹرول کے ایک بٹن کی محتاج ہے، ماہ نور راجہ نے کہا کہ میں کبھی کسی سے جیلس نہیں ہوئی ہر کسی کا اپنا مقدر ہوتا ہے، محنت کا پھل ضرور ملتا ہے، 2019کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ماہ نور راجہ نے کہا کہ یہ سال میری کامیابیوں کی نوید لے کر آئے گا، کیونکہ برانڈ شوٹس اور کمرشلز کے ساتھ ایکٹنگ اور سکرپٹ رائٹنگ کا آغاز کیا، میں اپنے ڈراموں کے ذریعے معاشرتی مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کروں گی، موضوعات میں تبدیلی لانے کی کوشش ہے، اور جو یکسانیت نظر آرہی ہے، اس کو توڑنا میرا مقصد ہے، میں خود کو عقل کل نہیں کہہ رہی، میں حیثیت کے مطابق ڈرامہ انڈسٹری، اور فلم میں جو بہتری لا سکی لانے کی کوشش کروں گی،

شیئرکریں
  • 26
    Shares