عرصہ ہوا کوئی فلمی گانا عوامی مقبولیت حاصل نا کرسکا، پہلے اکژ فلمیں موسیقی کی وجہ سے ہٹ ہوتی تھی، فلمی گیت نگار،جاوید راہی،

فلمی گانوں میں ذومعنی الفاظ اور ولگیریٹی، نے فیملیز کو سینما ہال سے دور کیا، کیونکہ وہ گیت فیملیز کے ساتھ نہیں سنے جا سکتے تھے،
فلم انڈسٹری کے نامور شاعر احمد راہی کا اکلوتا شاگرد ہوں،موسیقار وجاہت عطرے نے مجھے شاعر اعظم کا خطاب دیا

1997تک مسلسل کام کیا، مگر پھر جب اچھا کام ہونا بند ہوا، انڈسٹری سے دور ہوگیا، اب شوکت شریف کی فلم کے لیئے گیت لکھ رہا ہوں، جس کی فلم انڈسٹری میں کافی دھوم ہے،

آجکل کی فلموں میں وہ موسیقی اور شاعری نہیں اسی لیئے فلمی گانے مقبول عام نہیں ہوتے، ولگیریٹی نے فلمی موسیقی کا بیڑہ غرق کر دیا ، اس لیئے اب فلموں کے لیئے کام کرنے کو دل نہیں کرتا، ان خیالات کا اظہار فلم انڈسٹری کے نامور شاعر جاوید راہی نے ایک ملاقات میں کیا، جاوید راہی جنہوں نے 35-40کے قریب فلموں کے لیئے گیت نگاری کی اور 400-500کے قریب گیت فلموں کے لیئے لکھے، جن میں سے بہت سے ہٹ بھی ہوئے، ان کے گیت میڈم نورجہاں سے لے کر دیگر نامور سنگرز نے گائے، ان کا ایک اور بھی حوالہ ہے کہ فلم انڈسٹری کے نامور شاعر احمد راہی کے اکلوتے شاگردہیں، مگر گزشتہ کافی عرصہ سے فلم انڈسٹری سے آؤٹ ہیں، جس کی وجہ یہ ہے نئے لوگوں نے شاعری اور موسیقی پر توجہ دینی کم کر دی، اور فلم انڈسٹری کے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے، گزشتہ دنوں جاوید راہی سے ایک تفصیلی نشست ہوئی ، جس کی روداد حاضر ہے، کافی عرصہ فلم انڈسٹری سے دوری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، کہ جب اچھے کام کی قدر نا ہو تو پھر دوری ہی بہتر ہے، میں نے اپنے دور میں سب سینئرز کے ساتھ کام کیا ہے، اور ان میں کام کی لگن تھی، وہ محنت کرتے تھے، جبکہ آجکل شاعری پر اتنی توجہ نہیں اور میں چل چلاؤ والا کام نہیں کرتا، مجھے فخر ہے کہ میں فلم انڈسٹری کے نامور شاعر احمد راہی کا اکلوتا شاگرد ہوں کیونکہ وہ کسی کو شاگرد کرتے ہی نہیں تھے،جبکہ اس وقت کے کچھ ناور شاعر مجھے اپنا شاگرد کرنا چاہتے تھے، جبکہ میں احمد راہی کا دیوانہ تھا،اور میں نے ان سے خود درخواست کی کہ مجھے شاگرد کریں، انہوں نے میرا کلام سنا اور کاغذ پر اپنے ہاتھ سے میرے نام کے ساتھ راہی لکھا، پہلے میں جاوید نام لکھتا تھا، جو جاوید راہی بن گیا، جاوید راہی نے کہا کہ میں نے اپنے استاد احمد راہی کی شاگردی میں آنے سے پہلے ہی فلم انڈسٹری میں کام کا آغاز کر دیا تھا، مجھے فلم انڈسٹری میں موسیقار نذیر علی نے متعارف کروایا، ، میں نے آغاز میں دھمالیں لکھیں جو بہت ہٹ ہوئیں، جاوید راہی نے کہا کہ مجھے یہ بھی اعزاز ہے کہ میڈم نورجہاں نے جب میرا گیت گایا میں نیا نیا فیلڈ میں آیا تھا اور میڈم نورجہاں کسی نئے شاعر کا گیت نہیں گاتی تھی، میں نے ایک گانا قتیل شفائی کی فلم کا بھی لکھا تھا، اس کے علاوہ خواجہ پرویز کی فلم کے لیئے بھی گیت لکھا،جو بہت مقبول ہوا، جاوید راہی نے کہا کہ میں نے نامور موسیقاروں کے ساتھ کام کیا جن میں ذوالفقار علی، علی افضل، صفدر حسین،اشفاق علی،نذیر علی، اور دیگر شامل ہیں، جبکہ موسیقار وجاہت عطرے نے مجھے شاعر اعظم کا خطاب بھی دیا تھا، جن فلموں کے لیئے گیت لکھے ا ن میں پیار کہانی، مسٹر تابعدار،پرانا پاپی،پتر جگے دا،آخری ٹاکرا، یملا جٹ،ہجرت، وطن کے رکھوالے، دیوانی ڈسکو دی،اور بہت سی فلمیں ہیں، جبکہ آجکل ہدائتکار شوکت شریف کی فلم کے لیئے گانے لکھ رہا ہوں، 1997تک میں مسلسل لکھتا رہا ہوں، جاوید راہی نے کہا کہ 1984میں احمد راہی کا شاگرد ہواجبکہ 1983میں میری فلم ’’دیوانی ڈسکو دی‘‘ریلیز ہوچکی تھی،میرے لکھے گانے میڈم نورجہاں، حمیرا چنا، اے نیئر، مہناز، ترنم ناز، اور سبھی نامور سنگرز نے گائے ،صرف نصیبو لال کے ساتھ کام نہیں کیا، اس کے ساتھ خود ہی کام نہیں کیا، کیونکہ وہ سٹارٹ میں اچھی تھی بعد میں ولگر گانے لگی،ایک سوال کے جواب میں جاوید راہی نے کہا کہ پہلے اکژفلمیں اپنی موسیقی کی وجہ سے ہٹ ہوتی تھیں۔مگر جب شاعری اور موسیقی پر توجہ کم ہوئی تو فلمی موسیقی دم توڑتی گئی، ایک سوال کے جواب میں جاوید راہی نے کہا کہ میرا کبھی کسی سے مقابلہ نہیں، میں اپنے موڈ اور مزاج سے لکھتا تھا اور لکھتا ہوں، فلم انڈسٹری کی موجودہ صورتحال دیکھ کے دل کڑھتا ہے، عرصہ ہوا کوئی فلمی گیت سپرہٹ نہیں ہوا، جبکہ پرانے گیت اب بھی سنیں تو اچھے لگتے ہیں، جاوید راہی کا کہنا ہے کہ فلم انڈسٹری کی بحالی میں جہاں اور عوامل پر نظر کی ضرورت ہے وہاں موسیقی اور شاعری بھی لازمی جزو ہے، جس وقت میں انڈسٹری میں آیا تب احمد راہی، قتیل شفائی، خواجہ پرویز، حبیب جالب اور دیگر نامور شاعر موجود تھے ، ان کی موجودگی میں اپنا آپ منوانا بہت مشکل تھا، مگر میں نے ہمت نا ہاری، ایک یادگار واقعہ سناتے ہوئے جاوید راہی نے کہا کہ ایک نامور شاعر جو مجھ سے خطرہ محسوس کرنے لگے تھے انہوں نے مجھے کہا کہ سٹوڈیو نا آیا کرو میں نے کہا کہ میں پیسے کے لیئے کام نہیں کرتا شوق ہے پیسے آپ رکھ لو نام آپ دے لو میرے گانوں پر مگر وہ اصرار کرتے رہے، میں نے سینئر ہونے کے ناطے ان کی بات مان لی اور کافی عرصہ جب سٹوڈیو نا گیا تو پھر وہی شاعر ایک دن اچانک ملے اور کہتے تم سٹوڈیو نظر نہیں آتے تو میں نے کہا کہ آپ نے ہی تو منع کیا تھا، پھر وہ خود مجھے ساتھ لے کر گئے، اور کہا کہ ٹیلنٹ کے آگے دیوار نہیں بننا چاہتا، اب کھل کے کام کرو، ہمسائیہ ملک میں کام کے حوالے سے جاوید راہی نے کہا کہ میں ہمسائیہ ملک کے لیئے کبھی کام نہیں کروں گا، پاکستانی ہوں اور پاکستان میں ہی کام کروں گا،ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فلمی گیتوں سے ہٹ کر بھی کام کیا ہے، شازیہ منظور کے ساتھ ایک آڈیو البم کیا ہے ، اس کے علاوہ نعتیہ اور حمدیہ کلام بھی مختلف سنگرز کی آوازوں میں ریکارڈ کروایا ہے،جاوید راہی نے آخر میں کہا کہ اچھے پروڈیوسر آگے آئیں ، اچھی فلمیں لکھوائیں ساتھ اچھا میوزک تیار کروائیں تو آج بھی فلمیں کامیاب ہوں گی اور گانے بھی ہٹ ہوں گے،

شیئرکریں
  • 3
    Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں