دیار غیر میں مقیم پاکستانی ثقافت کا علمبردار’’یار محمد شمسی‘‘

(انٹرویو، انجم شہزاد)
پاکستان فلم انڈسٹری کی موجودہ حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، کیونکہ کبھی یہی فلم سٹوڈیوز آباد تھے آج وہاں الو بو ل رہے ہیں، سٹوڈیوز ویران، فلورز کرایہ پر دیئے ہوئے اور جو خالی ہیں وہاں سناٹا ہے، لاہور میں چند چھوٹے بجٹ کی فلمیں بنانے والے ایکا دکا پروڈیوسرز ہیں، مگر جنہوں نے اس انڈسٹری سے کمایا وہ یہاں لگانے پر تیار نہیں بلکہ یہاں سے کما کر دوسرے شعبوں میں اپنے کاروبار سیٹ کر لیئے ہیں، ان خیالات کا اظہار جرمنی میں مقیم پاکستانی پرموٹر یا ر محمد شمسی نے ایک ملاقات میں کیا، یار محمد شمسی جب گزشتہ دنوں پاکستان آئے تو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ان کے چہرے پر اداسی نمایاں تھی، کہنے لگے کہ فلم انڈسٹری ہمیشہ لاہور سے نمایاں کامیابیاں سمیٹیں ، مگر پتہ نہیں اب کیوں اس انڈسٹری سے کمانے والے نام بنانے والے ہاتھ پر ہاتھ رکھے کس مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں، ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اچھا سکرپٹ ہو تو فلم اب بھی چل سکتی ہے، بے سروپا کہانی، یا اوچھی حرکتیں بھونڈی کامیڈی نہیں بلکہ نئے موضوعات پر فلمیں بنانے کی ضرورت ہے ، سکرین پر تازگی کا احساس چاہیئے یہاں تازگی کے نام پر ڈرامہ کے لڑکے لڑکیاں فلموں میں کاسٹ تو ہو رہے مگر نمایاں کامیابی کسی کا مقدر نہیں ٹھہری کیونکہ فلم بالکل مختلف میڈیم ہے، جب وہی لڑکے لڑکیاں دس ٹی وی ڈراموں میں کام کر رہے ہوں گے اور فلم کے نام پر ڈرامہ دکھایا جائے گا تو فلم بھی ویسی ہی کامیاب ہوگی اور اگر کوئی کامیاب ہو بھی جائے تو سب لکیر کے فقیر بن جاتے ویسی فلمیں بنانے لگ جاتے، میں نے بھی سوچا تو ہے کہ پاکستا نی ثقافت کے حوالے سے کوئی فلم بناؤں ، کہانی پر کام ہو رہا ہے، کہانی مکمل ہو تو پھر کاسٹنگ بھی کی جائے گی اور ریکارڈنگ کاآغاز ہوگا، فلم نامور اور نئے فنکاروں کا حسین سنگم ہوگی، یار محمد شمسی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس فلم کے ذریعے اندرون وبیرون ملک پاکستانی ثقافت کو اچھے طریقے سے دیکھانا چاہتا ہوں، کیونکہ پاکستانی نوجوانوں کو اکثر اپنے کلچر کے بارے میں آگاہی نہیں، اور بیرون ملک رہنے والے پاکستانی نوجوان تو بلکل اپنی ثقافت سے نا آشنا ہیں، میں بیرونی دنیا میں بھی پاکستانی ثقافت کو پرموٹ کرنا چاہتا ہوں، گزشتہ کافی عرصہ سے جرمنی میں مقیم ہوں تعلق پاکستان سے ہے تو دل جان اور روح تو یہاں ہی ہوتی ہے، بیرون ملک بھی ہمیشہ پاکستانی ثقافت کا علم بلند رکھا، یعنی وہاں جو ثقافتی شوز منعقد کرواتا ہوں ان میں زیادہ تر پاکستان سے لوک فنکاروں اور غزل گائیکی والوں کو بلاتا ہوں،جیسے میں نے استاد حسین بخش گلو، شوکت علی،اور اللہ دتہ لونے والا کو اپنے شوز میں خصوصی طور پر بلایا،اور وہاں پر رہنے والوں نے ان کی گایئکی کو پسند کیا اور ایسے شوز سے پاکستانی کلچر دیکھ کر ہمارا سافٹ امیج دنیا کے سامنے پیش ہوا،یار محمد شمسی نے بتیا کہ میں گزشتہ 25-30سال سے جرمنی میں مقیم ہوں اور ریسٹورنٹ کے کاروبار سے وابستہ ہوں، پاکستان بھی آنا جانا لگا رہتا ہے اس لیئے شوبز اور کلچر کو وہاں ڈسکس کرتا رہتا ہوں اسی لیئے فلم بنانے کا سوچا، مشورے دینے والے یہ شکار سمجھنے والے بہت ملے کیونکہ اکثر انڈسٹری کے لوگ اس فیلڈ میں آنے والوں کو گائیڈ کرنے کی بجائے انہیں تر نوالہ سمجھتے ہیں، اس لیئے اچھا فنانسر اب یہاں سرمایہ کاری نہیں کرتا، کیونکہ یہاں ہر کوئی اپنی دو چار بوٹیوں کی خاطر پورا بکرا ذبح کرنا چاہتا ہے، انڈے کھانے کی بجائے مرغی حلال کر دیتے ہیں،یار محمد شمسی نے کہا کہ اچھی فلم بنانا جوئے شیر لانے کے برابر ہے، مگر میرا حوصلہ جواں ہے، میں ملکی ثقافت کے لیئے کچھ کرنا چاہتا ہوں، حکومت نے بھی اس انڈسٹری کو ہمیشہ یتیم سمجھا کوئی سہولیات نہیں دیں، یہاں سے کروڑوں اربوں ٹیکس لینے کے باوجود انڈسٹری تسلیم نہیں کیا۔ اگر حکومت سرپرستی کرے تو انڈسٹری دوبارہ پاؤں پر کھڑی ہو جائے گی، اور ہمیں آپس کی رنجشیں اور حسد دل سے نکال کر مل جل کر پاکستانی فلم انڈسٹری کی بقاء کی جنگ لڑنی ہوگی،فلم کو لاہور اور کراچی کی بجائے پاکستان کی فلم بنانا ہوگا۔یار محمد شمسی نے کہا کہ میری فلم کی کہانی عام فارمولہ ٹائپ نہیں ہے ، مختلف ٹائپ کی کہانی ہے، چند دوستوں سے ڈسکس کی تو انہوں نے کہانی پسند کی، کاسٹنگ بھی ساتھ ساتھ جاری ہے، میں رول کے لیئے ٹاپ ماڈل مہرین سید سے بات ہوئی ، انہوں نے میری آفر کو قبول کر لیا، اس کے علاوہ ایک نہائت اہم رول کے لیئے صبا کاظمی کا انتخاب کیا ہے ، کیونکہ وہ اس رول کے لیئے مناسب لگیں، یار محمد شمسی کا کہنا ہے کہ کرداروں کی ڈیمانڈکے مطابق اداکاروں کا انتخاب کیا جائے گا کیونکہ اکثر فلمیں مس کاسٹنگ کی وجہ سے ناکام ہوتی ہیں،کہانی اگر مضبوط ہو تو سرمایہ کم بھی ہو تو اچھی فلم بن سکتی ہے، سرمایہ کامیابی کی ضمانت نہیں، میوزک پر بھی توجہ ہے، میں اس فلم کو عالمی میعار اور جدید تقاضوں کے مطابق بنانا چاہتا ہوں، ڈائریکٹر بھی نیا ہو گا جو جدید ٹیکنالوجی کا علم رکھتا ہو،یار محمد شمسی نے کہا کہ اس فلم کے ذریعے میرا مقصد کمائی نہیں، بلکہ میں اپنے کلچر کو بیرونی دنیا میں متعارف کروانا چاہتا ہوں، ایک سوال کے جواب میں یار محمد شمسی نے کہا کہ جلد ہی جرمنی میں ایک میوزک شو بھی منعقد کرا رہا ہوں جس میں کمپئیرنگ صبا کاظمی کریں گی نامور فوک سنگر شو میں پرفارم کریں گے،یار محمد شمسی نے کہا کہ نوجوان نسل میوزک کے نام پر اچھل کود کرتی ہے جبکہ موسیقی روح کی غذا ہے جو نئے سنگرز نے سزا بنا دی ہے، یار محمد شمسی نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے مجھے منع کیا کہ فلم نا بناؤ یہ رسک ہے، مگر میں اپنے ارادے میں اٹل ہوں، اب یہ بیڑا اٹھایا ہے تو پیچھے نہیں ہٹوں گا، ٹی وی ڈراموں کے متعلق یار محمد شمسی کا کہنا ہے کہپاکستانی ڈرامہ میعار اور کہانی کے لحاظ سے ہمیشہ سر فہرست رہا ہے، لوگ پسند بھی کرتے ہیں، میرا ابھی ڈرامہ کی طرف آنے کا خیال نہیں، فلم ہی میرا خواب ہے اور یہ خواب میں ضرور پورا کروں گا

شیئرکریں
  • 14
    Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں