” آن دی سیٹ، سٹکام’’دغا باز رے‘‘

معاشرتی، اصلاحی ، کامیڈی سٹکام، وقت کی اہم ضرورت تھا، یہ ڈرامہ عام ڈگر سے ہٹ کر ہے،کامیڈی پر چھائے جمود کو توڑنا چاہتے ہیں، شازی خان،
اوچھی حرکتوں کی بجائے سچوایشنل کامیڈی کو فروغ دینا چاہتے ہیں، ’’دغا باز رے‘‘سینئرز، جونئیرز کا حسین سنگم ہے، ماہ نور راجہ
(رپورٹ۔ انجم شہزاد)

موجودہ دور میں ہر طرف ٹینشن اور پریشانی ہے، ہر کوئی روزی روٹی کے چکر میں ہے ، اور لوگ بھی ایک دوسرے کو سوائے ٹینشن اور پریشانی کے کچھ نہیں دیتے اگر ایسے میں کوئی کسی کے ہنسنے مسکرانے کا اہتمام کرتا ہے تو یہ ایک طرح سے عبادت سے کم نہیں، پرایؤیٹ ٹی وی چینلز ہوں یا سرکاری ، ان پر کا میڈی کے شوز اور ڈرامے ہمیشہ عوام کی خاص پسند رہے ہیں، آجکل ہر چینل کامیڈی سٹکام بنا رہا ہے، لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ ان میں چار پانچ اداکار ہوتے ہیں اور ایک ہی لوکیشن یا گھر میں پوری قسط ختم کر دیتے ہیں، کامیڈی کے نام پر اوچھی حرکتیں اور منہ بگاڑ بگاڑ کر باتیں کرتے ہیں اور اکثر چینلز پر تو وہی چند اقساط ہی بار بار دکھائی جا رہی ہیں اسی جمود کو توڑنے کے لیئے ’’بگ ویژن انٹرٹینمنٹ‘‘ کے روح رواں، نامور کمرشل میکر، ڈائریکٹر شازی خان نے ایک بگ کاسٹ کی سٹکام بنانے کا ارادہ کیا، پہلے اس سٹکام کے سکرپٹ پر خاص محنت کی گئی، اس کا سکرپٹ ماہ نور راجہ سے لکھوایا گیا، اور کردار کی مناسبت سے فنکاروں کا انتخاب کیا گیا،گزشتہ دنوں اس کامیڈی سٹکام کی ریکارڈنگ لاہور میں کی گئی، ( دغاباز رے ) میں معاشرے میں بڑھتی ہوئی برائیوں، اور معاشرتی مسائل کو ہلکے پھلکے انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس سٹکام کے کردار ہمارے معاشرے کے عام اور حقیقی کردار ہیں،جو ہمارے آس پاس چلتے پھرتے نظر آئیں گے لاہور میں اس وقت گلیوں محلوں میں اور مختلف لوکیشن پر کامیڈی سٹکام ( دغاباز رہے ) کی شوٹنگز جاری ہیں۔ اس ڈرامے کے ڈائیریکٹر شازی خان ہیں اور پروڈیوسرچوہدری مبین ہیں یہ ڈرامہ بہت جلد ایک بڑے چینل پر آن ائیر ہونے والا ہے۔اس ڈرامے میں سینئرز، اور جونیئر فنکاروں کی ایک بڑی تعداد نے کام کیا ہے اور کریں گے جن میں۔ ذوالقرنین حیدر۔ راحیلہ آغا۔ نشو بیگم۔ راشد محمود۔ ماہ نور راجہ۔ ، صالحہ خان۔ شیزا خان۔ علینا چوہدری۔ محرمہ علی۔ شاہ رخ علی۔ علی خان۔ ملائکا علی ،حامد خان۔ ندیم نایاب۔ ریاض بلوچ ،اور موسیٰ خان شامل ہیں، موسیٰ خان جو کہ اس ڈرامے میں بڑا اچھارول کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ڈرامہ ’’دغاباز رے‘‘ ایک زبردست سچوایشنل کامیڈی سے بھر پور ڈرامہ ہے، اور رائٹر ماہ نور راجہ نے بہت ہی کمال کا سکرپٹ لکھا ہے، ہر کردار پر محنت کی ہے، موسیٰ خان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سٹکام عام ڈگر سے ہٹ کر ہے اور مجھے یقین ہے کہ جب یہ چلے گا تو لوگ بلبلے کو بھول جایءں گے کیونکہ کہ اس ڈرامہ سٹکام میں بہت سارے لوگ کام کر ر ہیں، میں نے ایک پٹھان گجر کا رول کیا ھے جو کہ بہت ہی چیلنجنگ رول ہے، ڈائریکٹر شازی خان نے بہت ہی عمدہ طریقے سے مجھ سے کام لیا ہے شازی خان ایک ٹیلنٹڈڈائریکٹر ہیں جنہوں نے ہر آرٹسٹ سے بہت عمدہ کام لیا ھے مجھے اْمید ہے کہ جب یہ ڈرامہ ٹی وی چینل پر چلے گا تو ان شا اللہ ہر طرف ’’دغابازرے‘‘کی دھوم ہوگی۔ ایک اور اہم کردار شاہ رخ علی کا ہے جو کہ پاکستانی شاہ رخ کے نام سے مشہور ہے، وہ بھی اس کردار میں پرفامنس کی بلندیوں پر نظرآئیں گے، شاہ رخ نے کہا کہ شازی خان نے اچھے سکرپٹ کا انتخاب کیااور میرا کردار شاہ رخ کا ہی ہے، اس کردار میں کیا کیا کر رہا ہوں یہ ٹی وی سکرین پر ڈرامہ دیکھ کر ہی پتہ چلے گا،ڈرامہ میں ایک اور اہم رول علی خان کا بھی ہے،جو فلموں اور ٹی وی ڈراموں کا مستند نام ہیں اس سٹکام میں پولیس آفیسر کا منفرد رول کر رہے ہیں، نامور اداکار ذوالقرنین حیدر بھی زبردست رول کر رہے ہیں، جبکہ راحیلہ آغا کے کردار کو بھی لوگ یاد رکھیں گے، ماہ نور راجہ خود بھی بطور اداکارہ کام کر رہی ہیں، اس سے پہلے بہت سی کمرشلز میں اپنے فن کے جلوے دکھائیں گی، ڈائریکٹر شازی خان نے کہا کہ میں اس سے پہلے کافی ڈٖرامے اور ٹیلی فلمز کے علاوہ بے تحاشا کمرشلز بنا چکا ہوں ، اب کامیڈی سٹکام بنانے کا خیال آیا تو ماہ نور راجہ نے ایک اچھا سکرپٹ دیا اس میں کامیڈی کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاحی پہلو بھی نظر آئے گا، میرے ساتھ میرے پروڈیوسر چوہدری مبین بھی اس کو شاہکار بنانا چاہتے ہیں،وہ پروڈکشن کے لحاظ سے مجھے ہر ممکن سہولیات مہیا کر رہے ہیں ڈرامہ کے ڈی او پی اقبال شاہ ہیں، جو فلم انڈسٹری کا جانا پہچانا نام ہیں، میوزک مون انتھونی،اور چندو کا ہے،سٹل فوٹو گرافر ایم یعقوب بھٹی ، ہیں،ما ہ نور راجہ نے کہا کہ اس وقت کامیڈی سٹکام وقت کی ضرورت ہے اور میں نے اس لیئے کامیڈی کا انتخاب کیا، اور یہ بھی کوشش کی کہ عام فہم جگت بازی یا اوچھی حرکتوں کی بجائے سچوایشنل کامیڈی کو فروغ دیا جائے،اور ساتھ ساتھ معاشرہ کی اصلاح بھی کی جائے اس میں ہم کس حد تک کامیاب ہوئے یہ ڈرامہ دیکھ کر ہی اندازہ ہوگا،

شیئرکریں

اپنا تبصرہ بھیجیں